Daily Ausaf:
2026-06-03@05:32:45 GMT

لاہور تا کراچی، بھارتی ٹارگٹ لسٹ تیار

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

بھارت کی پاکستان اور آزاد کشمیر کیخلاف سرجیکل اسٹرائیکس کی تیاریوں کے حوالے سے عالمی میڈیا میں بھی اب سنگین خدشات کا اظہار شروع ہو گیا ہے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ کشیدگی کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ چند دنوں میں دنیا کے 12 سے زائد عالمی رہنماں کو ٹیلی فون کالز کی ہیں تاکہ اپنا بیانیہ پیش کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی نئی دہلی میں موجود تقریبا 100 غیر ملکی سفارتی مشنز کو خصوصی بریفنگز دی گئی ہیں، جن میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات دہرائے گئے۔ ان سفارتی سرگرمیوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارت نہ صرف عالمی رائے عامہ کو اپنے متوقع سرجیکل اسٹرائیکس کیلئے ہموار کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے زمین بھی تیار کر رہا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس اور دفاعی مبصرین کے بیانات کے مطابق، بھارت کی یہ تیاری محض سرجیکل اسٹرائیک کی حد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک منظم اور وسیع پیمانے پر منصوبہ بند فوجی کارروائی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق، اس بار کارروائی صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کے اندرونی علاقوں میں بھی ’’دہشت گردی کے مبینہ اڈوں‘‘کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا اور براہم چیلانی جیسے مبصرین مسلسل دعوی کر رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر سرگرم جہادی تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا وقت آ چکا ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ بات شدت سے زیر بحث ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کو جواز بنا کر پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں قائم اہم مراکز پر براہ راست حملے کیے جا سکتے ہیں۔ جن اہداف پر بھارتی حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ان میں مریدکے میں واقع کالعدم جماعت الدعوہ و لشکر طیبہکا سابق ہیڈکوارٹرز ، چوبرجی لاہور کی جامع مسجد القادسیہ بھی شامل ہیں، جہاں اب درس و تدریس اور عبادات کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور بطور تربیتی مراکز استعمال دس پندرہ برس سے بند ہے۔
بہاولپور اور رحیم یارخان میں موجود مولانا مسعود اظہر سے تعلق رکھنے والے مدارس کے مختلف کیمپس جنہیں بھارت جیش محمد کے تربیتی مراکز قرار دیتا ہے لیکن وہاں بھی دس پندرہ برسوں سے اب صرف عبادات اور تعلیمی سرگرمیاں ہی جاری ہیں۔ لاہور اور کراچی میں موجود کچھ دفاتر جو کسی زمانے میں حافظ محمد سعید اور مولانا مسعود اظہر سے وابستہ تھے، کراچی میں قائم جامعہ رشیدیہ اور جامعہ بنوریہ جیسے بڑے دینی تعلیمی ادارے، جن کے بارے میں بھارت کا دعوی ہے کہ یہ مولانا مسعود اظہر اور جیش محمد سے تعلقات رکھتے ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت ڈرون حملوں، کروز میزائل حملوں یا بیلاسٹک میزائل حملوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی فوج کی خصوصی کمانڈوز یونٹس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے، جو کنٹرول لائن پار کر کے آزاد کشمیر میں کارروائیاں کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
بھارتی ذرائع کے مطابق، اسرائیل سے حاصل کیے گئے جدید ہیرون ڈرونز اور امریکہ ساختہ پریڈیٹر ڈرونز کو پاکستانی علاقوں میں انٹیلیجنس، نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’براہموس‘‘ کروز میزائل، جو کہ انتہائی تیزی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، مخصوص مدارس یا دینی مراکز پر داغے جا سکتے ہیں۔بھارتی عسکری منصوبہ بندی میں اس بار یہ بھی شامل ہے کہ حملوں کا دائرہ کار محدود ہو تاکہ پاکستان کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا موقع نہ دیا جاے، بھارت کی ممکنہ سرجیکل اسٹرائیک یا محدود جنگی کارروائی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر بھارت واقعی پاکستان کے اندر حساس مذہبی اور تعلیمی اداروں پر حملے کرتا ہے تو یہ نہ صرف ایک سنگین جارحیت ہوگی بلکہ اس کے انتہائی لرزہ خیز عالمی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تنا ایک عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج نہایت بھیانک ہوں گے۔
اگر بھارت نے رحیم یارخان، بہاولپور، لاہور، کراچی یا مریدکے میں مدارس، مساجد یا دینی مراکز کو نشانہ بنایا تو پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے کئی آپشنز موجود ہیں۔ پاکستانی عسکری حکمت عملی کے تحت بھارت کے حساس فوجی اڈے، انٹیلی جنس دفاتر، اور سرحدی علاقوں میں موجود اسلحہ ڈپو فوری طور پر جوابی حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ خصوصا راجستھان میں موجود بھارتی فضائیہ کے اڈے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ، اور ہماچل پردیش و پنجاب کے حساس ملٹری تنصیبات کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان بھارت کے اندر موجود بڑے اقتصادی مراکز، مثلا امرتسر، جودھپور اور دہلی کے قریبی علاقوں پر محدود لیکن مثر میزائل حملوں کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی، پاکستانی دفاعی حکمت عملی میں بھارت کی انتہاپسند تنظیموں جیسے بجرنگ دل، شیو سینا اور آر ایس ایس کے دفاتر اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنانے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں، تاکہ دنیا کو بھارت میں موجود ہندو انتہاپسند دہشت گرد نیٹ ورکس کی حقیقت بھی دکھائی جاسکے۔ ایسی کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کا جواب شدید، موثر اور دشمن کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کو نشانہ بنانے کہ پاکستان پاکستان کے بھارت کی کے مطابق سکتا ہے رہا ہے کیا جا کے لیے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار