Daily Ausaf:
2026-07-24@04:30:40 GMT

لاہور تا کراچی، بھارتی ٹارگٹ لسٹ تیار

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

بھارت کی پاکستان اور آزاد کشمیر کیخلاف سرجیکل اسٹرائیکس کی تیاریوں کے حوالے سے عالمی میڈیا میں بھی اب سنگین خدشات کا اظہار شروع ہو گیا ہے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت، مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ کشیدگی کو جواز بنا کر پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے حالیہ چند دنوں میں دنیا کے 12 سے زائد عالمی رہنماں کو ٹیلی فون کالز کی ہیں تاکہ اپنا بیانیہ پیش کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی نئی دہلی میں موجود تقریبا 100 غیر ملکی سفارتی مشنز کو خصوصی بریفنگز دی گئی ہیں، جن میں پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات دہرائے گئے۔ ان سفارتی سرگرمیوں سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ بھارت نہ صرف عالمی رائے عامہ کو اپنے متوقع سرجیکل اسٹرائیکس کیلئے ہموار کر رہا ہے بلکہ پاکستان کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے زمین بھی تیار کر رہا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس اور دفاعی مبصرین کے بیانات کے مطابق، بھارت کی یہ تیاری محض سرجیکل اسٹرائیک کی حد تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یہ ایک منظم اور وسیع پیمانے پر منصوبہ بند فوجی کارروائی کا پیش خیمہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ بھارتی ذرائع کے مطابق، اس بار کارروائی صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پاکستان کے اندرونی علاقوں میں بھی ’’دہشت گردی کے مبینہ اڈوں‘‘کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کار اجے شکلا اور براہم چیلانی جیسے مبصرین مسلسل دعوی کر رہے ہیں کہ پاکستان کے اندر سرگرم جہادی تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا وقت آ چکا ہے۔ بھارتی میڈیا میں یہ بات شدت سے زیر بحث ہے کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد کو جواز بنا کر پاکستان کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں قائم اہم مراکز پر براہ راست حملے کیے جا سکتے ہیں۔ جن اہداف پر بھارتی حملے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، ان میں مریدکے میں واقع کالعدم جماعت الدعوہ و لشکر طیبہکا سابق ہیڈکوارٹرز ، چوبرجی لاہور کی جامع مسجد القادسیہ بھی شامل ہیں، جہاں اب درس و تدریس اور عبادات کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور بطور تربیتی مراکز استعمال دس پندرہ برس سے بند ہے۔
بہاولپور اور رحیم یارخان میں موجود مولانا مسعود اظہر سے تعلق رکھنے والے مدارس کے مختلف کیمپس جنہیں بھارت جیش محمد کے تربیتی مراکز قرار دیتا ہے لیکن وہاں بھی دس پندرہ برسوں سے اب صرف عبادات اور تعلیمی سرگرمیاں ہی جاری ہیں۔ لاہور اور کراچی میں موجود کچھ دفاتر جو کسی زمانے میں حافظ محمد سعید اور مولانا مسعود اظہر سے وابستہ تھے، کراچی میں قائم جامعہ رشیدیہ اور جامعہ بنوریہ جیسے بڑے دینی تعلیمی ادارے، جن کے بارے میں بھارت کا دعوی ہے کہ یہ مولانا مسعود اظہر اور جیش محمد سے تعلقات رکھتے ہیں۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بھارت ڈرون حملوں، کروز میزائل حملوں یا بیلاسٹک میزائل حملوں کا استعمال کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے بھارتی فوج کی خصوصی کمانڈوز یونٹس کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے، جو کنٹرول لائن پار کر کے آزاد کشمیر میں کارروائیاں کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
بھارتی ذرائع کے مطابق، اسرائیل سے حاصل کیے گئے جدید ہیرون ڈرونز اور امریکہ ساختہ پریڈیٹر ڈرونز کو پاکستانی علاقوں میں انٹیلیجنس، نگرانی اور حملوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ’’براہموس‘‘ کروز میزائل، جو کہ انتہائی تیزی سے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، مخصوص مدارس یا دینی مراکز پر داغے جا سکتے ہیں۔بھارتی عسکری منصوبہ بندی میں اس بار یہ بھی شامل ہے کہ حملوں کا دائرہ کار محدود ہو تاکہ پاکستان کی جانب سے بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا موقع نہ دیا جاے، بھارت کی ممکنہ سرجیکل اسٹرائیک یا محدود جنگی کارروائی صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر بھارت واقعی پاکستان کے اندر حساس مذہبی اور تعلیمی اداروں پر حملے کرتا ہے تو یہ نہ صرف ایک سنگین جارحیت ہوگی بلکہ اس کے انتہائی لرزہ خیز عالمی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔ دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تنا ایک عالمی بحران کو جنم دے سکتا ہے، جس کے نتائج نہایت بھیانک ہوں گے۔
اگر بھارت نے رحیم یارخان، بہاولپور، لاہور، کراچی یا مریدکے میں مدارس، مساجد یا دینی مراکز کو نشانہ بنایا تو پاکستان کے پاس جوابی کارروائی کے کئی آپشنز موجود ہیں۔ پاکستانی عسکری حکمت عملی کے تحت بھارت کے حساس فوجی اڈے، انٹیلی جنس دفاتر، اور سرحدی علاقوں میں موجود اسلحہ ڈپو فوری طور پر جوابی حملوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ خصوصا راجستھان میں موجود بھارتی فضائیہ کے اڈے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کیمپ، اور ہماچل پردیش و پنجاب کے حساس ملٹری تنصیبات کو ٹارگٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان بھارت کے اندر موجود بڑے اقتصادی مراکز، مثلا امرتسر، جودھپور اور دہلی کے قریبی علاقوں پر محدود لیکن مثر میزائل حملوں کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ساتھ ہی، پاکستانی دفاعی حکمت عملی میں بھارت کی انتہاپسند تنظیموں جیسے بجرنگ دل، شیو سینا اور آر ایس ایس کے دفاتر اور تربیتی مراکز کو نشانہ بنانے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں، تاکہ دنیا کو بھارت میں موجود ہندو انتہاپسند دہشت گرد نیٹ ورکس کی حقیقت بھی دکھائی جاسکے۔ ایسی کسی بھی جارحیت کی صورت میں پاکستان کا جواب شدید، موثر اور دشمن کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کو نشانہ بنانے کہ پاکستان پاکستان کے بھارت کی کے مطابق سکتا ہے رہا ہے کیا جا کے لیے

پڑھیں:

ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری

مجھے خوب یاد ہے کہ راقم نے سب سے پہلے اُن کی تحریر امریکا کے مشہور جریدے ’’نیویارکر‘‘ میں پڑھی تھی۔اِس تحریر کی معرفت میرا اُن سے پہلا تعارف ہُوا۔ یوں میں اُن کی تحریروں کا گرویدہ ہوتا چلا گیا ۔ وہ ہمیشہ مفصل لکھتی ہیں اور اپنا نکتہ نظر کھل کر اور بے دھڑک بیان کرتی ہیں ۔ اُنھی ایام میں گجرات میں ہندو دہشت گردوں اور بدمعاشوں نے دل کھول کر مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی تھی ۔

اِسی خونریزی میں مشہور گجراتی مسلمان سیاستدان و رکن پارلیمنٹ (احسان جعفری) کا خون بھی کر دیا گیا تھا۔اِسی نسل کشی اور مسلمانوں کی بے دریغ خونریزی پر مذکورہ مصنفہ نے ایسا انکشاف خیز آرٹیکل لکھا تھا کہ بھارتی حکومت اور گجرات کی ریاستی سرکار( جس کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی تھے) تھرّا اُٹھے تھے۔ راقم اُن دنوں امریکا میں مقیم تھا اور وہاں سے بھارتی جرائد و اخبارات حاصل کرنا سہل تھا ۔ نیویارک کے معروف علاقے ’’ جیکسن ہائٹس‘‘ میں ایک ہندو کی خاصی بڑی دکان تھی ۔ وہیں سے مَیں بھارتی جریدے خریدا کرتا تھا ۔ مثال کے طور پر: انڈیا ٹوڈے،آؤٹ لک ، فرنٹ لائن وغیرہ ۔اِن تینوں جرائد میں میری پسندیدہ لکھاری کی تحریریں باقاعدہ اور بکثرت شائع ہوتی تھیں ۔

میری اِس محبوب لکھاری کی تحریروں نے مجھے اتنا مسمرائز کررکھا تھا کہ اُن کا عالمی شہرت یافتہ پہلا ناول The God of Small Thingsسامنے آیا تو پہلی ہی فرصت میں نیویارک کی سب سے بڑی کتابوں کی دکان Barnes and Nobleسے خریدا اور ٹرین میں آتے جاتے اِسے پڑھا ۔ ’’دی گاڈ آف اسمال تھنگز‘‘ ناول کی کہانی بھارتی صوبے ، کیرالہ، سے شروع ہوتی ہے ۔

اِس کہانی میں کیرالہ کے ایک قصبے میں رہائش پذیر ایک غریب خاندان کی دل شکستہ داستان بیان کی گئی ہے ۔ ناول میں کیرالہ کے ذات پات کے بندھنوں میں جکڑے خاندانوں اور اُن کی المناک کہانیوں کو الفاظ کی شکل میں فلم بنا کر دکھایا گیا ہے۔یہ ناول اشکبار اور افسردہ کر دینے والا ہے ۔ ناولسٹ کو اِس کی بے پناہ مقبولیت کی بِنا پر معروفِ عالم ادبی انعام ’’ بکر پرائز‘‘ سے بھی نوازا گیا ۔ یوں ناول نگار کو عالمی شہرت بھی مل گئی ۔

میری اِس محبوب بھارتی رائٹر کا نام ارُن دھتی رائے ہے ۔ اُن کی کئی عالمی شہرت یافتہ تحریروں کو اُردو میں ترجمہ کرکے کراچی کے سہ ماہی جریدے ’’آج‘‘ کے ذہین و فطین مدیر،اجمل کمال، شائع کر چکے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اجمل کمال صاحب اپنے نام کی مانند باکمال مترجم بھی ہیں ۔ ارُن دھتی رائے کی شخصیت اور تحریریں خاصی سرکش ، مزاحمتی اور ریاست مخالف ہوتی ہیں۔

ہر بھارتی حکومت اِسی لیے انھیں ناپسندیدہ قرار دیتی ہے ۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے کئی معروف بھارتی سیاستدان ( از قسم بی جے پی) متعدد بار ارُن دھتی رائے کو ’’غدارِ وطن‘‘ قرار دے چکے ہیں ۔ لیکن یہ درویش صفت خاتون دانشور اور مصنفہ ہر قسم کی سرکاری و غیر سرکاری مخالفتوں کے باوصف اپنے طے شدہ موقف سے ہٹتی ہیں نہ کوئی مخالف انھیں ہٹا سکا ہے ۔ ارُن دھتی رائے کی تحریروں میں جس طرح مظلوم بھارتی مسلمانوں اور زیر استبداد مقبوضہ کشمیریوں کی غیر مبہم حمائت کی جاتی ہے، اِن کی بنیاد پر اُن کے خلاف غداری کے کئی مقدمات بھی دائر ہو چکے ہیں ۔ مگر یہ سرکش مصنفہ کسی کے غچے اور غرّے میں آنے والی نہیں ہیں ۔

بھارتی مسلمانوں اور مظلوم کشمیریوں کے حقوق کی پاسداری کا اِس محترم و عظیم خاتون نے جس عزیمت سے پرچم اُٹھا رکھا ہے، ہم پاکستانیوں کو شائد اِس لیے بھی ارُن دھتی رائے پسند ہیں ۔ بھارت میں خبثِ باطن کے حامل کئی افراد نے انھیں ’’پاکستان کی ایجنٹ‘‘ بھی قرار دے رکھا ہے ۔ حیرت ہے کہ ماضی قریب میں پاکستان کی بھی ایک ’’ارُن دھتی رائے‘‘ ہُوا کرتی تھیں : وہ باقاعدہ لکھاری تو نہیں تھیں مگر ایک معروف وکیل اور انسانی حقوق کی محافظ ہونے کے ناتے وہ ہر مستبد پاکستانی حکمران کی سخت ناقد رہا کرتی تھیں ۔ اُن کے ہر بیان اور اقدام کی اساس پر اُن کے نظریاتی و سیاسی و سماجی مخالفین انھیں ’’بھارت کی ایجنٹ‘‘ کے لقب سے یاد بھی کرتے تھے ۔

اگست2002کے سلگتے ایام میں ارُن دھتی رائے پاکستان تشریف لائیں تو ہم نے انھیں حیرت انگیز نظروں سے لاہور کے ایک پنج ستارہ ہوٹل میں خطاب کرتے دیکھا اور سُنا ۔ اُن کی سادہ شخصیت اور نہایت سادہ لباس اور بھی دَم بخود کر دینے والا تھا ۔ ایک نئی نئی سیاسی جماعت بنانے والے پاکستانی سیاستدان ( جو اَب مرحوم ہو چکے ہیں) اور ایک معروف صحافی (جو اَب مشہور ٹی وی اینکر ہیں) کی دعوتِ خاص پر ارُن دھتی رائے پاکستان آئی تھیں ۔ اور اب اِنہی ارُن دھتی رائے کی نئی کتابMother Mary Comes to Me شائع ہو کر سامنے آئی ہے تو ہم نے اِسے شوق، تجسس اور مسرت سے دیکھا اور پڑھا ہے ۔

اس کتاب میں مصنفہ کی سچائی ، سچ سے محبت، سماجی روایات سے بغاوت اور سرکشی اپنے عروج پر ہے ۔ جس نے بھی اِس کتاب کو پڑھا ہے،سناٹے میں آ گیا ہے کہ آیا کوئی مصنفہ بیٹی ہونے کے ناتے اپنے خاندان اور خاص طور پر اپنی والدہ بارے اتنے کڑوے سچ بھی بول اور لکھ سکتی ہے؟

یہ تازہ کتاب(Mother Mary Comes to Me) ارُن دھتی رائے نے دراصل اپنی آنجہانی والدہ (Mary) بارے لکھی ہے ۔ یہ درحقیقت والدہ بارے تلخ یادداشتیں اور سوانح ہیں ، مگر بین السطور یہ ارُن دھتی رائے کی سوانح حیات بھی ہے ۔ مصنفہ کے سیاسی و سماجی بھارتی ناقدین(خصوصی طور پر دائیں بازو کے بھارتی سیاستدان)کا کہنا ہے کہ ’’جو رائٹراپنی والدہ بارے یہ سخت الفاظ لکھ سکتی ہے ، اُس کے لیے غداری کا لفظ بھی کم ہے ۔‘‘زیر نظر کتاب میں مصنفہ نے اپنی والدہ کے ساتھ پیچیدہ ، ،مشکل اور جذباتی تعلقات کی داستان بیان کی ہے۔ ارُن دھتی رائے کے بچپن اور والدہ سے تعلقات کی یادداشتوں اور مضبوط حافظے کی داد دینا پڑتی ہے ۔ اُن کی والدہ ایک سخت گیر اور ڈسپلن کی پابند ماہر تعلیم تھیں ۔

اُنھوں نے کیرالہ میں جدید اسکول کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں بڑی شہرت کا حامل بنا ۔ Maryاِس اسکول کی ہیڈ مسٹرس بھی رہیں ۔ وہ ایک آزاد روش کی حامل ، باغی اور انقلابی ذہن کی حامل استاد اور سوشل ایکٹوسٹ بھی تھیں ۔ اُنھوں نے بھارتی سپریم کورٹ میں شامی مسیحی بچیوں کا مقدمہ بہادری سے جیتا اور تاریخ رقم کر گئیں ۔ سماج سے بغاوت اور آزادی سے جینے اور لکھنے کی خواہش کے عناصر ارُن دھتی رائے کو اپنی والدہ سے وراثت میں ملے ۔ حکومت ، سیاست اور سماج مخالف آزادانہ تحریروں کے باعث انھیں ’’اینٹی انڈیا‘‘ بھی کہا گیا ۔ بھارت سرکار کی جانب سے ایک بڑا ڈیم ( نرمدا ویلی ڈیم پراجیکٹ) بنانے کے چکر میں لاکھوں کی مقامی آبادی کو جس وحشت سے اکھیڑا گیا، اُرن دھتی رائے نے بھارت بھر میں اِن غریبوں کا مقدمہ لڑا اور بالآخر اُن کے حقوق دلوا ہی دیئے ۔

ارُن دھتی رائے نے جرأتمندی سے طاقتوروں سے سوال پوچھنے اور اُن کے سامنے ڈَٹ جانے کا سلیقہ اپنی والدہ سے سیکھا ۔ شائد اِسی بِنا پر مصنفہ نے اپنی اِس کتاب میں اپنی والدہ کو اپنی Gangster، Shelterاور My Stormبھی قرار دیا ہے ۔ اگر زیر نظر کتاب کے خلاصے کو دو چار الفاظ میں کوزے میں بند کیا جائے تو کہا جائے گا کہ ارُن دھتی رائے کے قلم سے یہUncompromising Memoirsکی بازگشت ہے ۔ اُنھوں نے اپنی ڈسپلن پسند والدہ بارے لکھا ہے کہ وہ اپنے دونوں بچوں سے سفاکی کی حد تک منظم زندگی ، مگر آزادانہ زندگی گزارنے کی طلبگار تھیں ۔

وہ لکھتی ہیں :’’ اور جب میری تحریروں کے باعث مجھے بھارت اور بھارت سے باہر شہرت ملنے لگی تو میری والدہ مجھ سے حسد کرنے لگی تھیں َ‘‘۔ارُن دھتی رائے بھارت اور دُنیا بھر میں اقلیتوں کے حقوق کی جس طرح علمبردار ہیں، اِسی طرح وہ دُنیا کے کسی بھی ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے کی حامی نہیں ہیں ۔اُن کے یہ الفاظ اُن کی آزاد منش طبیعت اور باغیانہ روش کے مظہر کہے جاتے ہیں:’’ مجھے کہنے ، لکھنے اور بولنے کی مطلق آزادی چاہیے ۔ اِس کے لیے مجھے کسی خاص ملک کے قومی پرچم کی چھاؤں کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک کا قومی پرچم دراصل کپڑے کو وہ ٹکڑا ہے جو انسانوں کے دماغوں کو محدود بھی کرتا ہے اور اِنہیں سکیڑ کر رکھ دیتا ہے ۔‘‘

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • کراچی: ملیر 15 میں رینجرز اور ایس آئی یو کی کارروائی، 3 بھتہ خور ہلاک
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا