Juraat:
2026-07-24@04:00:57 GMT

فیصلہ بآلاخر مذاکرات سے ہی ہوگا!

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

فیصلہ بآلاخر مذاکرات سے ہی ہوگا!

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں بھارت نے روایتی طریقہ ِ کار کے مطابق فالس فلیگ آپریشن کرنے کے بعدحسب ِ سابق حملہ کے ٹھیک2گھنٹے بعد پاکستان کوموردِ الزام ٹھہرادیا۔ حیران کن طورپر کسی بھارتی اینکر اور نیوز چینلز کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ اپنی حکومت سے پوچھے کہ 4 افراد پاکستان سے بذریعہ مقبوضہ کشمیر پیدل 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے پہلگام پر حملہ آور ہوتے ہیں اورپھر اچانک غائب ہوجاتے ہیں۔ تاحال بھارتی ایجنسیاں اور افواج اْنہیں تلاش کرنے میں ناکام ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے چپے چپے پر فوجی چیک پوسٹ بنی ہوئی ہیں ایسا کیونکر ممکن ہوا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان پر جنگ تھوپنے کی کوششوں پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے یک آواز ہو کر بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کے عزم کااظہار کیا ہے۔

پاکستان کے دونوں منتخب ایوان اتحاد کے جذبے سے سرشار نظر آئے ہیں۔ اس اتحاد نے یقینا مودی کے ہوش اڑادئے ہیں کیونکہ اس نے اس زعم میں یہ حرکت کی تھی کہ حکومت واوراپوزیشن کے درمیان کھلی مخالفت سے فائدہ اٹھالے گا لیکن ایسا سوچتے ہوئے بھارتی حکمراں اور فیصلہ ساز وں نے غالباً یہ حقیقت نظر انداز کردی تھی بکہ 1965 میں جب بھارت نے پاکستان پرجنگ مسلط کی گئی اُس وقت بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑے فاصلے تھے۔اپوزیشن کے دِل زخمی تھے ، لیکن جب بھارتی فوجیں واہگہ کی سرحد پر حملہ آور ہوئیں تو سب ایک ہو گئے۔فیلڈ مارشل ایوب خان نے اپوزیشن رہنماؤں کو ملاقات کی دعوت دی،تو سب نے اسے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔آج بھی پاکستانی سیاست بٹی اور کٹی ہوئی ہے، غیر ذمہ دار عناصر بھی اپنا وجود رکھتے ہیں ملک کا سب سے بڑا لیڈر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے،اِس کے باوجودپاکستان سے محبت کے حوالے سے 1965 کا جذبہ اہوزیشن سمیت پوری قوم میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ کسی کے دل میں خوف نام کی کوئی شے موجود نہیں۔کنٹرول لائن سے سیکڑوں کلو میٹر دور پہلگام میں جب سیبھارتی فوج کے دہشت گردوں نے اپنے مضموم مقاصد کے تحت متعدد سیاحوں کی جانیں لی ہیں اور متعدد کو زخمی کیا ہے، بھارتی میڈیا آگ اُگل رہا ہے انتہا پسند مودی حکومت اُس کے دباؤ میں ہے یا وہ مودی کے دباؤ میں ہے، اِس سے قطع نظر کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کی طرف سے اُٹھنے والے جنگ کے بادل پورے جنوبی ایشیاپر منڈلا رہے ہیں لیکن اس نازک صورت حال میں بھی پاکستان ٹھنڈے دِل و دماغ سے کام لے رہا ہے۔کسی گھبراہٹ کے بغیر محدود اور موثر جوابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پوری قوم پُرعزم ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی ایٹمی طاقت ہیں، دہشت اور طاقت کا یہی توازن امن کی ضمانت ہے،جو اِسے تاراج کرے گا، وہ خود تاراج ہو جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا اس صورت حال پرکہنا ہے کہ اس خطے پر جنگ مسلط کی جارہی ہے، اس خطے پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں،انھوں نے کہا کہ ابھی میں نے جنگ چھڑ جانے کی بات نہیں کی لیکن خطرہ موجود ہے ہم جنگ کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں، ہم بھرپور جواب دیں گے،پوری قومی طاقت ہمارے پاس موجو د ہے تمام صلاحیتوں کا استعمال آتا ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوج کھڑی ہے، خطرہ موجود ہے، ایسی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کیلئے بھی 100 فیصد تیار ہیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے، تینوں مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ اس وقت دونوں جانب بھاری تعداد فوجیں ایک دوسرے کی ‘آنکھوں میں آنکھیں’ ڈالے تعینات ہیں۔ ہم انتہائی درجے پر الرٹ ہیں، اس وقت مقبوضہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر فورٹیفیکیشن ہے ‘ہماری فوجیں بڑی فورٹیفائیڈ بیٹھی ہیں اور ادھر ان کی بھی بیٹھی ہوئی ہیں۔ اگر کوئی ٹکراؤ ہوتا ہے تو الحمد اللہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے بالکل تیار ہیں۔‘پاکستان کو نقصان کا اندیشہ ہو تو طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشیدگی کم بھی ہوسکتی ہے، دوست ممالک کی بھی کوششیں جاری ہیں ہوسکتا ہے بھارت کو کچھ عقل آجائے۔ بعض ممالک کی جانب سے ثالثی کرانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں میڈیا میں بھی آیا ہے کہ کچھ لوگوں نے بھارت سے بھی رابطہ کیا ہے اور ہم سے بھی رابطہ کیا ہے۔اگر کوئی ملک ثالثی کی پیشکش کرتا ہے تو پاکستان پہلے ہی واضح کرچکا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کسی نیوٹرل فورم سے کروا لی جائے۔ اس کا دنیا کو پتہ لگ جائے کہ اس سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ایساآزاد فورم جس پر بھارت اور ہمیں اعتبار ہو، ہمارے مشترکہ دوست ہوں، یا بین الاقوامی فورم ہو یا ریجن کے ممالک ہوں،4-5 ممالک کا کمیشن بنا کر تحقیقات کروا لیں۔
ایک طرف صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اب بھی معاملات افہام وتفہیم کے ساتھ حل کرنے کی باتیں کررہاہے لیکن بھارتی رہنماؤں کے بیانات اور تیور یہ بتارہے ہیں کہ بھارت اب ایک آخری لڑائی کی تیاری کر رہاہے ۔ بھارتی رہنمااقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے لیے انصاف کے پاکستانی مطالبے سے توجہ ہٹانے کے لیے، پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگا رہے ۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ دہلی کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی پالیسی سیاسی/نظریاتی ہے، جس کا مقصد ‘اکھنڈ بھارت’ کا حصول ہے، جس کا مطلب پاکستان کا خاتمہ ہے۔ گذشتہ 2 دہائیوں میں اس نے جنوبی ایشیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔ان پالیسیوں کے پیچھے کارفرما ناپختگی پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔ اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دونوں اطراف کے قانون سازوں نے اس بات کا اعادہ کرنے کے لیے ہاتھ ملایا کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کا سخت، تیز اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔پاکستان آبی دہشت گردی یا فوجی اشتعال انگیزی سمیت کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا دفاع کرنے کے لیے پوری صلاحیت رکھتاہے اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے تیار ہے جیسا کہ فروری 2019 میں بھارت کی لاپرواہی کے خلاف اس کے مضبوط اور دلیرانہ ردعمل سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھارت کی طرف سے کسی بھی غلط مہم جوئی کا پہلے سے زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی تقسیم ہند کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی۔جو کبھی جنگوں کی شکل اختیار کرتی رہی ہے تو کبھی سیاسی و سفارتی محاذ آرائی کی شکل میں موضوع بحث رہی ہے۔تقسیم ہند وہ زخم ہے جو انتہا پسند بنیا رستے زخم کی طرح چاٹ رہا ہے۔ ہندوستان کا تقسیم ہونا ایک فطری عمل تھا۔اگر ہندو سامراج کی طرف سے اسے دل سے قبول کر لیا جاتا تو یقینا آج خطہ امن کی آماجگاہ ہوتا اور دو پڑوسی ملک اچھے تعلقات کے ساتھ رہ رہے ہوتے۔لیکن افسوس ایسا نہیں ہوسکا اور اب نریندرا مودی اپنے مسائل میں اس قدر گھر چکے ہیں کہ عوام کی توجہ لاینحل مسائل سے مبذول کرانے کیلئے ان کو پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا،پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی کرتے ہوئے مودی سرکار اپنے سابق لیفٹیننٹ جنرل ایچ ایس پناگ کا بیان کے اس بیان پر بھی کان دھرنے کو تیار نہیں جس میں انہوں نے پاکستان کی عسکری صلاحیت کا کھل کر اعتراف کرتے ہوئے اپنی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ بھارت کو یہ حقیقت نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان اب بھی ایک فعال ایٹمی ریاست ہے جس کے پاس ہر طرح کی جوابی کارروائی کی قابلِ عمل حکمت عملی موجود ہے بھارت کو کسی بھی میدان میں چاہے وہ میزائل، ڈرون، فضائی یا سمندری قوت ہو،ان میں کوئی ایسی تکنیکی برتری حاصل نہیں جس کی بنیاد پر وہ بغیر خطرے کے پاکستان پر جوابی حملہ کر سکے انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستان ایک مکمل ایٹمی قوت ہے اور کسی بھی محدود جنگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اسی طرح کا بیان بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو نے بھی دیا ہے انھوں نے صاف لفظوں میں متنبہ کیا ہے کہ اگر بھارت جنگ کرتا ہے تو اس کی معیشت بری طرح متاثر ہوگی اور بھارتی جرنیل پاکستان کے ساتھ جنگ کیلئے بھارتی ٹی وی چینلز پر بکواس کر رہے ہیں انہیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں انہوں نے پلواما حملے کے بعد پاکستان کے اقدامات کی بھی تعریف کی جب دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بہت زیادہ تھی اسی طرح بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی بھرے اجلاس میں یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ پہلگام واقعہ سیکورٹی اور انٹیلی جنس کی ناکامی ہے اگر مودی جی شہریوں کو تحفظ نہیں دے سکتے تو استعفی دیکر گھر بیٹھ جائیں اور کسی اہل شخص کو موقع دیں۔

بھارت کی تاریخ پاکستان دشمنی، سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے بھری پڑی ہے۔ تقسیم ہند سے لے کر آج تک بھارتی رہنماؤں نے پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ 1948، 1965 اور 1971 کی جنگیں ہوں یا کارگل کی مہم جوئی، ہر بار بھارت کو شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ 1971 میں بھارتی رہنماؤں نے مکاری سے ہماری جغرافیائی وحدت کو نقصان ضرور پہنچایا، مگر اس کا اکھنڈ بھارت کا خواب آج بھی ادھورا ہے اور ان شا اللہ قیامت تک ادھورا ہی رہے گا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے عصبیت اور نفاق کا بیج بونے والے بھارت کی 7 ریاستیں علیحدگی کی آگ میں سلگ رہی ہیں۔ ناگا لینڈ، میزورم، منی پور اور آسام میں آزادی کی تحریکوں بھارتی رہنماؤں کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ چین ڈوکلام میں بھارت کو گھیر چکا ہے، اور سلیگوری کاریڈور اس کیلئے ‘‘چکن نیک’’ کی طرح نازک گردن بن چکا ہے۔ اور تو اوربنگلہ دیش کے ساتھ اس کے تعلقات انتہا درجے کی کشیدگی کا شکار ہیں۔ حال ہی میں ڈاکٹر یونس کے چینی دورے میں دیئے گئے بیانات نے بھارتی رہنماؤں کی خارجہ پالیسی کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔جہاں تک دہشت گردی کے الزامات کی بات ہے، تو دنیا اب بھارت کے چہرے پر پڑا نقاب ہٹا چکی ہے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھارت کو سرکاری دہشت گرد قرار دے چکے ہیں۔ امریکہ میں سکھ رہنما کا قتل، قطر میں پکڑی گئی بھارتی سازش اور پاکستان میں کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوس کی موجودگی بھارتی ریاستی دہشت گردی کے ناقابلِ تردید شواہد ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت بڑے ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ممالک ہیں۔ دونوں پر لازم ہے کہ وہ بالغ نظری سے کام لیں۔ایک آخری لڑائی کا مطلب دونوں ریاستوں کی تباہی اور دنیا کے لیے ایٹمی سردی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بھارتی رہنماتباہی کے کنارے سے پیچھے ہٹیں۔ بھارتی رہنماؤں کو احساس ہو یانہ ہو اس کے جرنیل اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف کسی بھی عسکری کارروائی کا جواب دیا جائے گااور اگر کوئی جنگ ہوتی ہے تو کوئی نہیں جیتے گا۔ تاہم جنگ کے پہلے ہی مرحلے میں بھارت کو اندازہ ہو جائے گا کہ پاکستانی عوام ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔موجودہ صورت حال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کا یک دو طرفہ،عمل ہی سب سے موزوں راستہ ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اس بحران کے تمام مراحل کے بعد بھی بالآخر حل دو طرفہ بات چیت سے ہی نکلے گا۔بھارتی رہنماؤں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی کہ پاکستان اور بھارت ہمیشہ ہمسایہ رہیں گے۔ اچھے تعلقات نہ صرف امن کے مفاد میں ہیں، بلکہ دونوں کو اقتصادی ترقی کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان ثقافتی اور تاریخی ہم آہنگی یہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ باہمی مفاہمت اور تعاون کے ذریعے آگے بڑھیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت بھارتی رہنماؤں ہے کہ پاکستان دیا جائے گا پاکستان پر پاکستان کے کے درمیان میں بھارت کی طرف سے کہ بھارت موجود ہے بھارت کے صورت حال بھارت کو بھارت کی یہ ہے کہ کے ساتھ کرنے کی کسی بھی رہے ہیں کرنے کے ہیں ان ہے اور کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا