دو منٹ کے لیے مردہ رہی مگر واپس آنا نہیں چاہتی تھی‘، یونانی خاتون کا حیرت انگیز دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
یونان سے تعلق رکھنے والی 49 سالہ مصورہ نِکول میوز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ایک موقع پر اسپتال میں 2 منٹ تک مردہ رہیں اور اس مختصر وقت میں انہوں نے ایک ایسی دنیا کا مشاہدہ کیا جو ان کے بقول الفاظ سے بالاتر اور حقیقت سے کہیں بڑھ کر تھی۔
نِکول میوز کو حمل ضائع ہونے کے بعد ایمرجنسی آپریشن کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں پیچیدگیوں کے باعث ان کا جسمانی نظام جواب دے گیا اور وہ 2 منٹ تک موت کی حالت میں رہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مردہ قرار دی گئی خاتون 2 گھنٹے بعد زندہ ہوگئی
میوز نے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا کہ وہ ایک سرنگ سے گزریں، جو نیلی اور سفید روشنیوں سے بھری ہوئی تھی۔ ان کے بقول وہ روشنی محض روشنی نہیں تھی بلکہ زندہ محسوس ہو رہی تھی، جیسے وہ پانی سے بنی ہوئی کسی موسیقی کا راستہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایک وسیع و عریض جگہ میں داخل ہوئیں جہاں چاندی، نرم بنفشی اور گہرے نیلے رنگوں کی روشنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ نِکول نے کہا کہ وہ جگہ خوفناک نہیں بلکہ مانوس سی لگ رہی تھی، جیسے وہیں سے ان کا تعلق ہو۔
ان کے بقول اس دنیائے نور میں 2 دیو قامت نیلگوں مخلوقات ان کے منتظر تھے۔ ان کا رنگ نیلا، آنکھیں بڑی اور چمکتی ہوئی، چہرے انسانی جبکہ گالوں پر نرم گلپھڑے اور جسم کے نچلے حصے پر مچھلی جیسی دم موجود تھی۔ وہ دونوں نر و مادہ کا امتزاج لگتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون قرض حاصل کرنے کے لیےمردہ انکل کو بینک لے آئی
میوز نے کہا کہ ان مخلوقات نے ان سے الفاظ کے بغیر بات کی، مگر وہ سب کچھ سمجھ رہی تھیں۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ زمینی زندگی محض ایک خواب ہے، اور اصل زندگی موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان مخلوقات نے انہیں یہ بھی بتایا کہ ان کے مقدر میں اولاد نہیں تھی، بلکہ ان کے حصے میں یہ پیغام آیا ہے کہ وہ دنیا کو ’دوسری طرف‘ کے حقائق سے آگاہ کریں۔
نِکول نے بتایا کہ وہ خود کو پہلے سے زیادہ پہچانا ہوا محسوس کر رہی تھیں، جیسے یہ وہ جگہ تھی جہاں سے وہ آئیں اور جہاں انہیں واپس لوٹنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واپس نہیں آنا چاہتی تھیں، لیکن ایک جھٹکے سے انہیں دوبارہ جسم میں واپس لایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: 40 منٹ تک مردہ رہنے والی خاتون کے ہُوشربا انکشافات
ان کے ہوش میں آنے پر ان کے شوہر نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی، مگر وہ ایک اجنبی اور تیز آواز میں بات کر رہی تھیں، جو ڈولفن کی بولی جیسی تھی۔ وہ زبان ان کے قابو میں نہیں تھی، بلکہ جیسے وہ خود بخود ان کے اندر سے نکل رہی ہو۔
نِکول کے مطابق ان کی حواس خمسہ اس واقعے کے بعد پہلے سے کہیں زیادہ تیز ہو گئی تھیں اور وہ لوگوں کی آوازوں میں چھپے جذبات کو رنگوں میں محسوس کرسکتی تھیں۔
میوز کا کہنا ہے کہ اس تجربے کے بعد وہ کئی بار نیند یا خیال میں انہی نیلے رنگ کی مخلوقات کو دیکھ چکی ہیں۔ ان کے مطابق یہ مخلوقات کوئی خلائی مخلوق نہیں بلکہ اپکالو نامی بین البعدی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں، جنہیں بعض تہذیبوں میں دیوتاؤں کا درجہ حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’آپ باضابطہ طور پر دوبارہ زندہ ہو گئی ہیں‘، خاتون کے ساتھ پیش آنے والا دلچسپ واقعہ
نِکول میوز نے کہا کہ انہیں جو پیغام دیا گیا وہ یہ ہے کہ ’محبت موت سے زیادہ طاقتور ہے‘۔ ان کے بقول ہم سب ایک ہی چنگاری سے پیدا ہوئے ہیں اور جب تک نفرت، خوف اور جھوٹ میں جکڑے رہیں گے، ہمیں آسانی سے قابو میں رکھا جاسکے گا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم زمین پر جنت دیکھنا چاہتے ہیں تو ہر دن محبت بانٹنا ہوگی۔ نِکول نے کہا کہ اب انہیں موت کا کوئی خوف نہیں کیونکہ وہ جان چکی ہیں کہ اس کے بعد کیا ہوتا ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’موت انجام نہیں، ایک نئی شروعات ہے‘۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news زندگی مصورہ نِکول میوز موت یونانی خاتون.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: زندگی مصورہ ن کول میوز موت یونانی خاتون یہ بھی پڑھیں ن کول میوز ان کے بقول نے کہا کہ انہوں نے میوز نے رہی تھی کے بعد وہ ایک
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔