کشمیر ہندوستان کا نہیں ہے، پہلگام بھارتی سازش ہے، کشمیری عوام کھل کر بول پڑے
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے ہمیشہ بھارتی غاصبانہ قبضے کو رد کیا ہے اور وہ مختلف مواقع پر اپنی آزادی کی آواز بلند کرتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں مقبوضہ کشمیر کے ایک رکشہ ڈرائیور سے پہلگام حملے کے بارے میں سوال کیا گیا، جس پر اس نے بے خوف انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلگام حملہ ہندوستان کی چال ہے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر؛ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی پاکستانیوں کی بیدخلی کے بھارتی فیصلے پر شدید تنقید
ب اس سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ ہندوستان میں رہتے ہیں تو اس نے واضح اور دو ٹوک جواب دیا کہ نہیں! ہم کشمیر میں رہتے ہیں، کشمیر انڈیا کا نہیں ہے۔
یہ الفاظ ہر کشمیری کے دل کی آواز ہیں، جو بھارتی قبضے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعے کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشتگرد چہرہ بے نقاب، کشمیریوں کے گھر تباہ کردیے گئے
خطے کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رکشہ ڈرائیور کی بات نہ صرف کشمیری عوام کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے اندر بھارت کے خلاف ایک گہری نفرت اور آزادی کی خواہش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام واقعے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، وزیراطلاعات
کشمیری عوام اپنے حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کر رہے ہیں اور مختلف طریقوں سے دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔