ایشیا کپ میں پاکستان سے نہ کھیلنا بھارت کو کیسے مہنگا پڑسکتا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
کراچی:
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بھارتی ٹیم نے ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا تو پوائنٹس گرین شرٹس کو مل جائیں گے۔
ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ پر بھارت میں شورشرابا جاری ہے، بھارت نے اپنی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد ایشیا کپ میں شرکت اور پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بعد ایشیائی شوپیس ایونٹ کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا گیا۔
ایونٹ یواے ای میں 9 سے 28 ستمبر تک کھیلا جائے گا، اس میں 8 ٹیمیں شریک ہوں گی، گروپ اے میں شامل پاکستان اور بھارت کا کم سے کم 2 اور زیادہ سے زیادہ 3 مرتبہ سامنا ہوسکتا ہے۔
بھارت میں کچھ حلقے بدستور پاکستان کے خلاف اپنی ٹیم کے میچ کی مخالفت کررہے ہیں، گزشتہ دنوں بی سی سی آئی ذرائع نے واضح بھی کردیا تھا کہ میزبان ہونے کے ناطے بھارت ٹورنامنٹ سے دستبردار نہیں ہوسکتا، نہ ہی وہ پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کرسکتا ہے.
اس کے باوجود سوشل میڈیا پر شورشرابا جاری ہے، کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ جس طرح ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان اور بھارت چیمپئنز کا میچ منسوخ کرایا گیا، اسی طرح ایشیا کپ میں بھی روایتی حریفوں کے مقابلے کو سبوتاژ کردیں۔
بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں بھارتی وزارت کھیل نے واضح کیا کہ چونکہ ابھی تک پارلیمنٹ سے نیشنل اسپورٹس گورننس بل منظور نہیں ہوا اس لیے بی سی سی آئی ہمارے تابع نہیں ہے، ہم اس معاملے پر کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، صرف انتظار کرتے ہوئے دیکھیں گے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ عوامی جذبات کا کیسے جواب دیتا ہے۔
ادھر بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے پاس ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ فورفیٹ کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن اس صورت میں ٹیم کو اہم پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا، قوانین کے تحت اسے واک اوور تصور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ کوئی باہمی سیریز نہیں جس میں کھیلنے سے انکار کردیا جائے، ملٹی ٹیم ٹورنامنٹ میں بھارت میچ فورفیٹ نہیں کرسکتا، اگر ایسا کیا تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ میں پاکستان پاکستان کے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان