ایشیا کپ میں پاکستان سے نہ کھیلنا بھارت کو کیسے بھاری پڑسکتا ہے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 30 July, 2025 سب نیوز


کراچی:ماہرین نے واضح کیا ہے کہ بھارتی ٹیم نے ایشیا کپ میں پاکستان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کیا تو پوائنٹس گرین شرٹس کو مل جائیں گے۔
ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ پر بھارت میں شورشرابا جاری ہے، بھارت نے اپنی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد ایشیا کپ میں شرکت اور پاکستان کے ساتھ میچ کھیلنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بعد ایشیائی شوپیس ایونٹ کا باقاعدہ شیڈول جاری کیا گیا۔
ایونٹ یواے ای میں 9 سے 28 ستمبر تک کھیلا جائے گا، اس میں 8 ٹیمیں شریک ہوں گی، گروپ اے میں شامل پاکستان اور بھارت کا کم سے کم 2 اور زیادہ سے زیادہ 3 مرتبہ سامنا ہوسکتا ہے۔
بھارت میں کچھ حلقے بدستور پاکستان کے خلاف اپنی ٹیم کے میچ کی مخالفت کررہے ہیں، گزشتہ دنوں بی سی سی آئی ذرائع نے واضح بھی کردیا تھا کہ میزبان ہونے کے ناطے بھارت ٹورنامنٹ سے دستبردار نہیں ہوسکتا، نہ ہی وہ پاکستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کرسکتا ہے.


اس کے باوجود سوشل میڈیا پر شورشرابا جاری ہے، کچھ لوگوں کی کوشش ہے کہ جس طرح ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان اور بھارت چیمپئنز کا میچ منسوخ کرایا گیا، اسی طرح ایشیا کپ میں بھی روایتی حریفوں کے مقابلے کو سبوتاژ کردیں۔
بڑھتے ہوئے دباؤ کے جواب میں بھارتی وزارت کھیل نے واضح کیا کہ چونکہ ابھی تک پارلیمنٹ سے نیشنل اسپورٹس گورننس بل منظور نہیں ہوا اس لیے بی سی سی آئی ہمارے تابع نہیں ہے، ہم اس معاملے پر کچھ بھی نہیں کہہ سکتے، صرف انتظار کرتے ہوئے دیکھیں گے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ عوامی جذبات کا کیسے جواب دیتا ہے۔
ادھر بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت کے پاس ایشیا کپ میں پاکستان سے میچ فورفیٹ کرنے کا اختیار موجود ہے لیکن اس صورت میں ٹیم کو اہم پوائنٹس سے محروم ہونا پڑے گا، قوانین کے تحت اسے واک اوور تصور کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ کوئی باہمی سیریز نہیں جس میں کھیلنے سے انکار کردیا جائے، ملٹی ٹیم ٹورنامنٹ میں بھارت میچ فورفیٹ نہیں کرسکتا، اگر ایسا کیا تو پاکستان کو فائدہ ہوگا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت کا پرلے میزائل کا تجربہ، پاکستان کا کون سا جدید ہتھیار منہ توڑ جواب دے گا؟ پی ایس بی نے اسپورٹس فیڈریشنز کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کردیے اعظم خان کی ٹرانسفارمیشن والی تصویر دیکھ کر مداح حیران، کرکٹر کی وضاحت بھی آگئی قومی کھلاڑیوں کیلئے بڑی خوشخبری، وزیراعظم کا انعامی رقوم میں ریکارڈ اضافے کا اعلان جرمنی: ورلڈ یونیورسٹی گیمز کے دوران 2 پاکستانی ایتھلیٹس غائب ایشیا کپ کے شیڈول کا اعلان کر دیا گیا، پاکستان، بھارت ، یو اے اور عمان کو گروپ اے میں شامل پاکستان کا بھارت میں منعقدہ کسی بھی اسپورٹس مقابلے میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: ایشیا کپ میں پاکستان سے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان