Daily Sub News:
2026-07-24@07:19:41 GMT

     جب ہمدردی براعظموں کو عبور کرتی ہے

اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT

     جب ہمدردی براعظموں کو عبور کرتی ہے

     جب ہمدردی براعظموں کو عبور کرتی ہے WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز

    تحریر: محمد محسن اقبال

ایک ایسی دنیا میں جو نسل، مذہب اور قومیت کی لکیروں سے دن بہ دن زیادہ منقسم ہوتی جا رہی ہے، کچھ ایسی روحیں بھی ہیں جو ان دیواروں سے بلند ہو کر ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ انسانیت سب سے اعلیٰ درجہ ہے۔ ہمدردی نہ کسی پاسپورٹ کی محتاج ہے، نہ کسی سرحد کی، نہ کسی عقیدے کی — یہ دل کی ایک عالمی زبان ہے۔ کچھ افراد کی زندگی اس سچائی کی جیتی جاگتی گواہی بن جاتی ہے۔ مرحوم عبدالستار ایدھی، جن کا نام دنیا بھر میں احترام سے لیا جاتا ہے، اُنہوں نے نہ صرف دوسروں کے لیے جینا چُنا، بلکہ اُن کی خاطر سانس لینا اپنا مقصد بنا لیا۔ اُن کا ورثہ صرف یاد نہیں کیا جاتا، بلکہ وہ آج بھی ان گنت دلوں کو متاثر کرتا ہے جو دکھی انسانیت کی خدمت کے لیے خود کو وقف کیے ہوئے ہیں۔

ان لوگوں میں جو ایدھی کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں — اگرچہ پاکستان سے سمندروں کے فاصلے پر — ایک ایسا شخص بھی ہے جس کی کہانی سنائے جانے کے قابل ہے۔ ہارون نور محمد، جو 1948 میں جنوبی افریقہ کے شہر پریٹوریا میں پیدا ہوئے، اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ انسانیت سے محبت اور اپنی جڑوں سے وابستگی وقت اور جغرافیے کی حدود سے بلند ہو سکتی ہے۔ اگرچہ وہ افریقی سرزمین پر پیدا ہوئے، ان کا دل ہمیشہ پاکستان کے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ دھڑکتا رہا — اُس سرزمین کے ساتھ جہاں انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی کے قیمتی سال گزارے۔ نسلی امتیاز پر مبنی جنوبی افریقہ کے ظالمانہ نظام، اپارتھائیڈ، کے باعث ہارون 1963 میں تعلیم کی غرض سے پاکستان آئے۔ یہاں انہوں نے نہ صرف علم حاصل کیا بلکہ پاکستان اور اس کے عوام سے ایک گہرا اور دیرپا تعلق بھی قائم کیا۔

 1973 سے 1976 تک ہارون نور محمد نے کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشنمیں تعلیم حاصل کی، جہاں سے انہوں نے بزنس میں آنرز ڈگری اور پھر ایم بی اے مکمل کیا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد وہ جنوبی افریقہ واپس لوٹے، مگر وہاں ان کے لیے مواقع کے دروازے بند ملے — اپارتھائیڈ کے ظالمانہ نظام نے ان دروازوں کو سختی سے بند کر رکھا تھا۔ اُن کی قابلیت کے باوجود، اُن کی جلد کا رنگ اُن کی قسمت کا فیصلہ کرنے لگا۔ اُنہیں اُن پیشہ ورانہ شعبوں میں کام کرنے کی اجازت نہ ملی جن کے دروازے ان کی تعلیم نے ان کے لیے کھولے تھے۔ لیکن اس محرومی نے ان کے حوصلے کو ماند نہیں کیا۔ بلکہ اس نے اُن کے دل میں خدمت کا جذبہ اور بھی زیادہ مضبوط کر دیا۔

ہارون نور محمد نے پاکستان سے اپنا تعلق مختلف انداز میں دوبارہ استوار کیا۔ 2001 میں، جب محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے ایّام گزار رہی تھیں، تو اُنہوں نے پریٹوریا میں ہارون نور محمد کی رہائش گاہ پر قیام کیا۔ وہ دن، جو خاندان اور دوستی کی گرمجوشی میں گزرا، آج بھی اُن کی یادداشت میں نقش ہے — ایک ایسی یاد جسے وہ اپنے دل سے لگائے رکھتے ہیں۔ 2005 اور پھر 2010 میں، جب پاکستان زلزلوں اور تباہ کن سیلابوں سے دوچار ہوا، تو ہارون نور محمد نے صرف ہمدردی کے الفاظ پر اکتفا نہ کیا؛ بلکہ جنوبی افریقہ سے وسائل کو متحرک کیا اور عبدالستار ایدھی کے ساتھ مل کر متاثرین کی امداد میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ ایدھی کو انسانیت کے لیے خدا کا ایک انمول تحفہ سمجھتے ہیں اور خود کو اُن کے ساتھ کام کرنے والا ایک خوش نصیب انسان تصور کرتے ہیں۔

ہارون نور محمد کی کاوشیں نظرانداز نہیں کی گئیں۔ اپریل 2025 میں انہیں پاکستان مدعو کیا گیا اور پشاور میں اُنہیں اُن کی عمر بھر کی انسانی خدمت اور پاکستان و جنوبی افریقہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے پر گورنر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ایک ایسی دنیا میں جو اس قسم کی مثالوں کی پیاسی ہے، اُن کی زندگی امید کا ایک روشن چراغ ہے۔ 1994 سے اب تک وہ جنوبی افریقہ میں تعینات ہر پاکستانی سفیر کی میزبانی اپنے گھر پر کر چکے ہیں، جس نے اُن کے گھر کو سفارتکاری، مہمان نوازی اور تعلقات کا ایک مرکز بنا دیا ہے۔ اُن کی کئی خوبصورت یادوں میں ایک یاد جنید جمشید کے ساتھ اُن کی ملاقات کی بھی ہے، جو جنوبی افریقہ کے دورے پر آئے تھے — ایک ایسی دوستی جو کئی دیگر تعلقات کی طرح آج بھی اُن کے دل اور کہانیوں میں زندہ ہے۔

ہارون نور محمد کی کہانی کو مزید مؤثر اور دل کو چھو لینے والا بنانے والی بات یہ ہے کہ اُن کی پاکستان سے محبت کسی سیاسی مفاد یا شناختی سیاست پر مبنی نہیں ہے۔ اُن کا خاندان 1947 کی تقسیم سے قبل ہی بھارت سے جنوبی افریقہ ہجرت کر چکا تھا۔ اس کے باوجود، پاکستان کی سرزمین، اس کے لوگ، اور وہ دن جو انہوں نے یہاں گزارے، ان کے دل و جان پر ایک ناقابلِ مٹ اثر چھوڑ گئے۔ انہوں نے پاکستان میں صرف تعلیم حاصل نہیں کی، بلکہ اس کی ثقافت کو جذب کیا، عمر بھر کے رشتے بنائے، اور اس کے اقدار کو اپنے وجود کا حصہ بنا لیا۔ پاکستان ان کے لیے صرف نقشے پر ایک ملک نہیں، بلکہ ان کے وجود کا حصہ ہے۔

اُن کی زندگی کی کہانی صبر، محبت اور انسانوں کی بھلائی پر غیر متزلزل ایمان کا حسین امتزاج ہے۔ اُن کی خدمات کو اب پاکستان کے معزز ترین صدارتی ایوارڈ کے لیے زیرِ غور لایا جا رہا ہے — ایک ایسا اعزاز جو اُس شخص کا حق ہے جس نے کبھی خدمت سے منہ نہیں موڑا، کبھی محبت سے پیچھے نہیں ہٹا، اور کبھی انسانیت کی بے پایاں طاقت پر یقین کھونے نہیں دیا۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا مزید بکھرتی محسوس ہوتی ہے، ہارون نور محمد ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے جیتے ہیں — سمندروں کے پار، رکاوٹوں کے پار، اور وقت کی حدوں سے بھی آگے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبررجب بٹ کے قریبی دوستوں کی نازیبا ویڈیوز لیک ہوگئیں جب بارشیں بے رحم ہو جاتی ہیں گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ ،مون سون کی تباہی، لیکن ذمہ دار کون؟ عقیدہ اور قانون میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس حیثیت مون سون کا چوتھا اسپیل یا تباہی؟تحریر عنبرین علی غیرت کے نام پر ظلم — بلوچستان کے المیے پر خاموشی جرم ہے آبادی پر کنٹرول عالمی تجربات اور پاکستان کے لیے سبق TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج