چین اور امریکا دونوں میں سے کسی کے بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، چین اور امریکا دونوں سے اچھے تعلقات رکھتا ہے، کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتے، بھارت سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
نیویارک میں پاکستانی کمیونیٹی سے خطاب میں انہوں نے کہ اقوام متحدہ اور او آئی سی کو صرف بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنا ہوں گے، فلسطین اور کشمیر دیرینہ تنازعات ہیں، ان کا حل عالمی امن کے لیے ناگزیر ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ او آئی سی دنیا کی دوسری بڑی تنظیم ہے، اس کا کردار اب علامتی نہیں بلکہ فیصلہ کن ہونا چاہیے، 2 ریاستی حل ہی فلسطین کے مسئلے کا واحد پائیدار حل ہے، فلسطینیوں کے لیے فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی ہونی چاہیے۔
ان کہنا تھا کہ پاکستان بھارت سے امن چاہتا ہے، دعوت ملے تو بات چیت کے لیے تیار ہیں، کشمیر کے مسئلے کا حل خطے میں ترقی، سیاحت اور سرمایہ کاری کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سلامتی کونسل میں متفقہ قرارداد 2788 پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے، امریکہ ثالثی کرے تو پاکستان تیار ہے، لیکن بھارت کی رضامندی ضروری ہے، پاکستان چین اور امریکہ دونوں سے اچھے تعلقات رکھتا ہے، کسی بلاک کا حصہ نہیں بننا چاہتے۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ نے اگر کشمیر پر عملی کردار ادا کیا تو مسئلہ حل ہو سکتا ہے، صدر ٹرمپ کا دورہ پاکستان خوش آئند ہوگا، رسمی اعلان دونوں ملک ایک ساتھ کریں گے،
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے لشکرِ طیبہ کو پہلے ہی ختم کر دیا، TRF کے خلاف شواہد امریکہ نے فراہم نہیں کیے، پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار، 80 ہزار جانیں اور 152 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، جلد ایرانی صدر کا دورہ پاکستان متوقع ہے، دونوں وزرائے خارجہ رابطے میں ہیں،پاکستان اور عرب دنیا کے تعلقات تاریخی، مضبوط اور ہر شعبے میں گہرے ہیں
اس کے علاوہ اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، بھارت سے مسلسل منفی بیانات سامنے آرہے ہیں، خطے کے تمام ممالک سے امن چاہتے ہیں، جن ممالک نے فلسطین کو تسلیم نہیں کیا انہیں اقدام اٹھانا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار بھارت سے کے لیے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔