وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تجارتی مذاکرات کی تکمیل کیلئے پھرامریکا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پاک امریکا ٹریڈ ڈایئلاگ میں پیش رفت سامنے آئی ہے، معاہدے سے متعلق حتمی بات چیت کیلئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک مرتبہ پھر امریکا روانہ ہوگئے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق مضبوط تجارتی اور معاشی تعلقات پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون ہے ۔ اور وزیرخزانہ کا دورہ امریکہ دونوں ملکوں میں دوطرفہ تجارتی و معاشی تعلقات کومضبوط بنانےکی کڑی ہے ۔ محمد اورنگزیب کے دورہ امریکا میں ٹریڈ ڈایئلاگ پر حتمی بات چیت ہو گی، تجارتی معاہدہ کی تشکیل سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوگا، وزارت خزانہ کے مطابق امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، پاکستان دو طرفہ تجارتی تعلقات کو روایتی اورغیرروایتی شعبوں تک وسعت دینےکا خواہش مند ہے، دونوں ممالک میں آئی ٹی،معدنیات،زراعت جیسےاہم شعبوں میں شراکت داری کےوسیع مواقع موجودہیں ۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔