وزیر خزانہ محمد اورنگزیب تجارتی مذاکرات کی تکمیل کیلئے پھرامریکا روانہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پاک امریکا ٹریڈ ڈایئلاگ میں پیش رفت سامنے آئی ہے، معاہدے سے متعلق حتمی بات چیت کیلئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ایک مرتبہ پھر امریکا روانہ ہوگئے ۔ وزارت خزانہ کے مطابق مضبوط تجارتی اور معاشی تعلقات پاک امریکا دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون ہے ۔ اور وزیرخزانہ کا دورہ امریکہ دونوں ملکوں میں دوطرفہ تجارتی و معاشی تعلقات کومضبوط بنانےکی کڑی ہے ۔ محمد اورنگزیب کے دورہ امریکا میں ٹریڈ ڈایئلاگ پر حتمی بات چیت ہو گی، تجارتی معاہدہ کی تشکیل سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوگا، وزارت خزانہ کے مطابق امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، پاکستان دو طرفہ تجارتی تعلقات کو روایتی اورغیرروایتی شعبوں تک وسعت دینےکا خواہش مند ہے، دونوں ممالک میں آئی ٹی،معدنیات،زراعت جیسےاہم شعبوں میں شراکت داری کےوسیع مواقع موجودہیں ۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔