پاک بھارت کشیدگی، سعودی وزارت خارجہ کا اہم بیان آگیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تمام تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
وزارت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ “مملکت سعودی عرب بھارت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کریں اور اختلافات کا حل پرامن اور سفارتی طریقوں سے نکالیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے قریب ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسے مصدقہ اطلاعات ملی ہیں کہ بھارت کسی ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔