کیا پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیق کے بغیر پاک بھارت ثالثی کی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
پہلگام واقعے کے بعد سے پاکستان اور بھارت 2 جوہری طاقتوں کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور گزشتہ روز وزیر اطلاعات کی جانب سے بھی جنگ چھڑنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
دونوں ممالک کی فوجوں کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جنگی ساز و سامان پہنچایا جا رہا ہے جو جلد جنگ کے امکان کی طرف اشارہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت کا جنگی جنون، پاکستان پر الزامات اور سرحدی دیہات خالی کرانے کا سلسلہ جاری
گو کہ پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کے لیے پہلگام واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے تعاون کی پیشکش بھی کی گئی، لیکن بھارت میں سیاستدان اور میڈیا جنگی اور جنونی جذبات کو ہوا دے رہے ہیں۔
پاکستانی اور چینی وزرائے خارجہ ملاقات27اپریل کو پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی گفتگو میں چین کی جانب سے کہا گیا کہ پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں لیکن بھارت نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا۔
اسی طرح ترکیے اور ایران کی جانب سے ثالثی کی پیشکشوں پر بھی بھارت کا کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔ اس وقت امریکا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے، لیکن ممکنہ طور پر بھارت کسی بھی قسم کی غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریز کرے گا کیونکہ یہ اُس کے بین الاقوامی امیج اور ملکی سیاست کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارت کا انکار22 اپریل کو پہلگام واقعے کے بعد 24 اپریل کو بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ہونے والے کل جماعتی اجلاس میں بھی بھارت نے اس واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کرائے جانے کو مسترد کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:حکومت کیساتھ اپوزیشن بھی بھارت کو سخت جواب دینے کے لیے تیار
بھارت غیر جانبدرانہ تحقیقات سے گریزاں کیوں ہے؟دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے پہلگام واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں، لیکن بھارت جو اِس واقعے کے فوراً بعد اپنی روایت کے مطابق پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا چکا ہے، واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات سے گریزاں ہے۔
بھارت نے پہلگام واقعے کی غیرجانبدارانہ، نیوٹرل اور بین الاقوامی تحقیقات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُس کے پاس شواہد ہیں کہ اِس واقعے میں پاکستان ملوث ہے۔ لیکن کیا بھارت اگر بین الاقوامی تحقیقات سے گریز کرے گا تو دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی ہو پائے گی؟
دو طرفہ معاملہبھارت ترکئے اور ایران کی جانب سے ثالثی کی کوششوں کو مسترد کر چُکا ہے اور وہ کشمیر کو ایک دو طرفہ معاملہ سمجھتا ہے۔ اس حوالے سے بھارت کا ایک مسلسل مؤقف ہے کہ اُسے کشمیر کے معاملے پر بین الاقوامی ثالثی قبول نہیں۔
کئی ممالک نے پہلگام واقعے پر پاکستان کی جانب سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کے نقطہِ نظر کی حمایت کی ہے لیکن بھارت اس معاملے پر کسی بھی تحقیقات کے لیے تیار نہیں اور اُس کا کہنا ہے کہ اُس کے تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی جانب سے کی گئی تفتیش کافی ہے۔
راہول گاندھیبھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے پہلگام واقعے پر حکومت کی جانب سے ناکافی حفاظتی انتظامات پر تنقید تو کی لیکن غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے اُنہوں نے بھی زور نہیں دیا۔
پاکستان کی کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششگزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کے درمیان بات چیت ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے کے تناظر میں لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد اور لغو قرار دیا۔
سیکریٹری جنرل نے امن کے لیے پاکستانی کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ اس وقت خطّہ کسی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کی پاک بھارت وزرائے خارجہ سے بات چیت متوقع26 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت خود سے کشیدگی کم کرنے کا کوئی حل نکال لیں گے لیکن کل امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو بھارت اور پاکستان کے وزرائے خارجہ سے بات کریں گے اور اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس بات چیت کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔
ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکا صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور دونوں ملکوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کریں۔
روس کا بیاناس صورتحال میں روس نے بیان دیا ہے کہ دونوں ممالک تحمل سے کام لیتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے سے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔
ترکیے کا پاکستان سے اظہارِ یکجہتیپاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے ترکیے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ترکی کا زیادہ جھکاؤ پاکستان کی طرف ہے۔ 28 اپریل کو ترک صدر رجب طیب اردگان نے دونوں ممالک سے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ خطہ کسی نئی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ترکیہ خطے میں امن کا متمنی ہےگزشتہ روز انقرہ میں کابینہ اجلاس کی صدارت کے بعد تُرک صدر نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اپنی سرحدوں پر کشیدگی کم کریں۔
انہوں نے کہا ترکیہ خطے میں امن کا متمنی ہے۔ اُنہوں نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ اس کے بعد اُنہوں نے وزیراعظم شہباز شریف نے دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون بڑھانے پر بات چیت کی۔
سعودی عربسعودی عرب بھی پاکستان اور بھارت میں کشیدگی کم کرنے کے لیے کوشاں ہے اور سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے اِس سلسلے میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحٰق ڈار کو فون بھی کیا تھا۔
برطانیہبرطانیہ نے پہلگام واقعے میں کوئی ثالثی کردار ادا کرنے کی پیش کش نہیں کی۔ برطانیہ نے دہشتگردی کی مذمت کی اور دونوں ملکوں پر زور دیا کہ مذاکرات کے ذریعے سے مسائل کا حل نکالیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار امریکا پاک بھارت کشیدگی پاکستان ترکیے چین ڈونلڈ ٹرمپ رجب طیب اردوان سعودی عرب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار امریکا پاک بھارت کشیدگی پاکستان ترکیے چین ڈونلڈ ٹرمپ رجب طیب اردوان کی غیر جانبدارانہ تحقیقات واقعے کی غیر جانبدارانہ کشیدگی کم کرنے کے لیے پہلگام واقعے کی غیر نے پہلگام واقعے بین الاقوامی دونوں ممالک لیکن بھارت تحقیقات کے پاکستان کی تحقیقات سے کی جانب سے پاک بھارت کے درمیان اپریل کو بھارت کا واقعے کے ثالثی کی بات چیت ہے کہ ا کے بعد رہا ہے
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔