انصاف تو اللہ کا کام ہے جج تو صرف دستاویز کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل WhatsAppFacebookTwitter 0 1 May, 2025 سب نیوز


اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ہے کہ ہم نے آئین میں درج پوری قوم کےحقوق کے تحفظ کاحلف لیا ہے، انصاف کرنا تو اللہ کا کام ہے ہم تو صرف فیصلہ کرتے ہیں۔

اسلام آباد میں لیبر ڈے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے سنا ہو گا کہ ججز بولتے نہیں لکھتے ہیں، سوچا تھا لکھی ہوئی تقریر پڑھ لوں گا مگر اب دل کی اور آئین کی بات کروں گا۔

انہوں نے کہا آئین کے مطابق تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، آئین کے مطابق کسی سے آپ زبردستی کام نہیں لے سکتے، ہم نے قوم کے حقوق کے تحفظ کیلئےحلف لیا ہے۔

جسٹس مندوخیل نے کہا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے کام کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا میں بحیثیت جج اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہوں؟ صرف آپ کو مزدور اور مجھے جج کا نام دیا گیا ہے، میرا کوئی کمال نہیں کہ میں اس عہدے پر بیٹھا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جس صوبے سے میرا تعلق ہے وہاں کان کنی کا کام ہے جو مزدور کرتے ہیں، مزدورکان کے اندر جاتے ہیں، ان مزدوروں کےحوالے سے قوانین حکومت کو بنانے چاہئیں، آئین میں درج حقوق سب کو ملنے چاہئیں، کوئی مزدور کسی کا غلام نہیں ہوتا۔

جسٹس جمال مندوخیل نے کہا آئین میں درج پوری قوم کےحقوق کےتحفظ کا ہم نےحلف لیاہے، ہم نےجوبھی فیصلہ کرنا ہے وہ کسی کے دباؤ،خوف اور لالچ میں آئے بغیرکرنا ہے، اپنے اور ساتھی ججز کی جانب سے یقین دلاتاہوں ہم انصاف اورحقوق کا تحفظ کریں گے، آئیں جو بھی مسئلہ ہے اس پر مل بیٹھیں۔

انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں ہم ججز انصاف نہیں کرتے، انصاف تو اللہ کا کام ہے ہم تو بس فیصلہ کرتے ہیں، ہم اپنےسامنے موجود دستاویز کو دیکھ کر فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں، مجھےخوف ہے کہ جو میراحلف ہےکہیں میں اس کی خلاف ورزی تو نہیں کر رہا؟

جسٹس مندوخیل نے کہا کوئی فریق کہےگا کہ میراحق ہے مگر میں تو وہی فیصلہ کروں گا جو میرےسامنے دستاویز ہے، اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو حلف کی پابندی کرنے کی توفیق دے۔

کانفرنس سے چیئرمین این آئی آر سی شوکت عزیز صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محنت کش کے حقوق کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں، این آئی آر سی کا بنیادی مقصد ملک میں صنعت کا پہیا رواں رکھنا ہے، صنعت چلتی رہے گی تو مزدور کا چولہا جلتا رہے گا۔

انہوں نے کہا دسمبر 2024 کو مجھے چیئرمین این آئی آر سی کی ذمے داری سونپی گئی، جب اس ذمے داری کے تحت قانون پڑھا پتا چلا ہمارا کام مزدور، مالک کو اکٹھا کرنا ہے، ہم نے کانفرنس انعقاد کا فیصلہ کیا جہاں ورکرز ، مالکان ایک ساتھ بیٹھ کر بات کریں، ہم کامیاب ہوئے کہ آج ورکر اور مالکان ایک میز پر ہوں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریومِ مزدور پر آج عام تعطیل؛ محنت کش دیہاڑی کی تلاش میں سرگرداں بھارتی افواج کو کسی بھی ہدف کو نشانہ بنانے کی مکمل آزادی مل گئی، ٹائمز ناؤ کا انکشاف بھارتی میڈیا کا پاکستان کے خلاف آپریشن بدلہ شروع ہونے کا دعویٰ امریکا نے بھارت کیساتھ 13 کروڑ ڈالر کا دفاعی معاہدہ کر لیا امریکی وزیر خارجہ کا وزیراعظم پاکستان، بھارتی ہم منصب کو فون، کشیدگی میں کمی پر زور حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی لیفٹیننٹ جنرل محمد عاصم ملک کو مشیر قومی سلامتی کا اضافی چارج دے دیا گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: جسٹس جمال مندوخیل فیصلہ کرتے ہیں مندوخیل نے کہا انہوں نے کہا فیصلہ کر حقوق کے

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر