ملائکہ اروڑہ بڑی مشکل میں پھنس گئیں، عدالت نے وارننگ جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
سیف علی خان سے متعلق ہوٹل جھگڑا کیس میں پیش نہ ہونے پر اداکارہ کیخلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہونے کا امکان ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کی ایک عدالت نے 2012 کے ہوٹل جھگڑا کیس میں گواہ کے طور پر طلب کی گئی بالی ووڈ اداکارہ مالائکہ اروڑہ کو آخری موقع دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ آئندہ سماعت، 9 جولائی کو عدالت میں پیش نہ ہوئیں تو ان کے خلاف ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری کیا جائے گا۔
یہ وارننگ اس وقت دی گئی جب مالائکہ اروڑہ نے 29 اپریل کی سماعت میں بھی شرکت نہیں کی، حالانکہ ان کے خلاف پہلے ہی قابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہو چکا تھا۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کے ایس زانور نے کہا کہ مالائکہ عدالت کی کارروائی سے ’جان بوجھ کر‘ گریز کر رہی ہیں، کیونکہ ان کے وکیل کی موجودگی کے باوجود وہ خود پیش نہیں ہوئیں۔
یاد رہے کہ یہ واقعہ 22 فروری 2012 کو جنوبی ممبئی کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں پیش آیا تھا، جہاں سیف علی خان، شکیل لادک اور بلال امرہوی کو این آر آئی تاجر اقبال شرما کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ شرما کے مطابق، سیف نے ان پر حملہ کیا جس سے ان کی ناک فریکچر ہوگئی تھی۔
پولیس کے مطابق واقعے کے وقت سیف کے ہمراہ کرینہ کپور، کرشمہ کپور، مالائکہ اروڑہ، امرتا اروڑہ اور دیگر دوست موجود تھے۔ کیس کی آئندہ سماعت 9 جولائی کو مقرر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔