WE News:
2026-07-24@09:43:44 GMT

یوم مزدور: فرضی دن اور فرضی باتیں

اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT

یوم مزدور: فرضی دن اور فرضی باتیں

آج بھی کہیں گیہوں کے کھیتوں میں کٹائی کرتے اورپاپی پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے نیچے  گرے گیہوں کے دانے چنتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کئی چھوٹے بڑے آج بھی برش لے کر افسروں کے کالے جوتے چمکاتے نظر آئیں گے۔

کچھ عورتیں آج بھی بھٹی پہ اینٹیں بناتی اور اپنے ارمانوں کو بھٹی کی آگ میں پکاتی دیکھی جا سکتی ہیں۔ کئی مزدور آج بھی کسی صاحب کی 3منزلہ عمارت پر سیمنٹ کا لیپ کر رہے ہیں۔

تندوروں پہ آج بھی ایئر کنڈیشنڈ میں بیٹھے ہوؤں کے لیے روٹیاں لگ رہی ہیں۔ چھوٹے آج بھی میزیں صاف کر رہے ہیں۔

کئی مزدور چوک میں آج بھی اوزار لے کر کام ملنے کی آس میں کھڑے ہیں۔ گٹر صاف کرنے کو جمع دار بھی آیا ہے۔ کام والی ماسی نے بھی چھٹی نہیں کی۔ سگنل پہ پھول اور گجرے بیچنے والے بچے آج بھی لوگوں کے دلوں کو مہکایں گے۔ گاڑیوں کے شیشے صاف کرنے والے بھی بھاگے بھاگے آئیں گے۔

اسٹیشن پہ قلی بھی کسی مسافر کا سامان سر پر لادنے کی امید میں سر جھکا کے بیٹھے ملیں گے۔ رکشے والے، ریڑھی والے لائن لگائے نظر آئیں گے۔ سڑکوں پہ گول گپے، سبزی، پھل، گولے گنڈے والے بھی مل جائیں گے۔ بیرے ہوٹلوں میں کھانا بھی لگائیں گے، اور جھوٹھے برتن بھی اٹھائیں گے۔

آج مزدوروں کا عالمی دن ہے، لیکن ان کے لیے یہ دن بھی باقی دنوں جیسا عام دن ہی ہے۔ کیونکہ آج بھی مزدور مزدوری پر ہیں یا پھرچند لوگ جو آج اس دن کی وجہ سے کام نہ ملنے پر اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے بھی محروم رہیں گے۔

 ایک سروے کے مطابق، مزدور طبقے کو اس دن کی اہمیت سے نہ تو کوئی خاص شناسائی ہے کہ آج ان کا دن ہے، اور نہ ہی وہ یہ جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جس طبقے کی آمدنی ان کی روزمرہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہو، ان کے لیے اپنے حالات سے لڑتے  ہر دن ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔

غربت کی چکی میں پستے ہوئے اپنے معاش کے لیے پریشان حال لوگوں کو گھڑی کی سوئیوں اور دنوں کے بدلنے کا کوئی خاص احساس نہیں ہوتا کیونکہ ان کی ہر صبح ایک ہی پریشانی لاتی ہے کہ آج کام ملے گا یا نہیں!

ہاں البتہ، کہیں کہیں فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کے لیے چھوٹی موٹی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ مزدور پیشہ افراد کو اس دن کے بارے میں علم ہی نہیں کہ یوم مزدور کیا ہے۔ نہ ہی انہیں اپنے حقوق کے بارے میں کوئی خاص آگاہی ہوتی ہے، اور جنہیں ہوتی ہے وہ بھی اس سرمایہ دارانہ نظام میں آواز اٹھانے سے قاصر ہوتے ہیں۔

کارخانوں میں کام کرنے والی چند خواتین سے جب ان کی مشکلات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمیں اتنا معاوضہ نہیں دیا جاتا جتنا کام لیا جاتا ہے۔ ہر سال ایسے ہی دن پرکئی وعدے اور دعوے بس باتوں کی حد تک کیے جاتے ہیں۔ مگر ان پر کوئی خاص عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ جبکہ غربت کے منحوس چکر میں پسنے والے لوگوں کی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔

علاوہ ازیں، کارخانوں، بھٹوں اور دیگر جگہوں پر کام کرنے والے مزدوروں خصوصاً عورتوں سے متعلق کوئی خاص قوانین نہیں بنائے گئے ہیں اور انہیں کام کرنے کی جگہوں پر بیشتر ہراسانی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زیادہ تر ایسے واقعات میں اپنے حقوق کے متعلق آگہی یا اس پر آواز اٹھانے کا اعتماد ہونے کے بجائے اپنا روزگار بچانے کے لیے خاموش رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

گھروں میں کام کرنے والی خواتین کے متعلق بھی کوئی پالیسی موجود نہیں ہے، نہ ہی ان کی اجرت کا کوئی تعین ہے۔ گھروں میں کام کرنے والے بچوں کے ساتھ حال ہی میں پیش آنے والے مار پیٹ اور تشدد کے واقعات کے بعد بھی کوئی مثبت پالیسی یا حکمت عملی سامنے نہیں آسکی کہ ایسی صورتحال پر قابو پایا جاسکے۔ جبکہ چائلڈ لیبر کا سرطان بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان میں  مزدوروں کی روزانہ کی اجرت میں مہنگائی کے تناسب سے کوئی خاص اضافہ نہیں کیا گیا بلکہ کمی ہی دیکھنے میں آئی ہے۔ کئی مزدور روزانہ ایک ہزار روپے سی بھی کم کما رہے ہیں۔ ایسے میں ان کی زندگی کا معیار بد ترین سطح تک گر چکا ہے۔

آخر اس دن کو منانے اور عام تعطیل کا مقصد کیا ہے؟ جن کا دن ہے ان کو اس سے کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ سرکاری ملازمین، افسروں، اسکولوں، اداروں کی چھٹی سے مزدور کے گھر میں راشن نہیں آتا۔ چھٹی جیسی عیاشی بھرے پیٹوں کے لیے تفریح کا باعث ہوسکتی ہے۔ دیہاڑی دار مزدور کے لیے صرف ایک خسارہ ہے۔

چھٹی تو کرلی ہے

کیا اس کے گھر میں اس دن راشن ڈلوایا ہے؟

اس کو تو اس دن سے کوئی غرض نہیں

جوآج بھی کام پر آیا ہے

فرضی دن اور فرضی باتیں

نام کسی کا، عیش کسی کے

چھوڑو یار!

دفتر والو! افسر نیلی بتی والو!

اور بے کار کے ٹھیکیدارو!

تم کو یہ دن بہت مبارک!

 ہر سال یہ دن آتا ہے مگر مزدور طبقے کی حالت میں اس دن اور اس تعطیل سے کوئی فرق پڑتا نہیں نظر آرہا۔ سب اسپیکروں میں بولنے والے انسانیت کے علمبردار نظر آتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی تبدیلی دکھائی نہیں آتی۔

اگر واقعی انسانیت کے ٹھیکیدار مزدوروں کے حقوق کے متعلق سنجیدہ ہیں تو اسپیکروں میں نعرے لگانے کے بجائے عملی طور پر اقدامات اٹھائیں۔ مزدوروں کی اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ کیا جائے۔ چائلڈ لیبر کے حوالے سے مناسب قانون سازی کی جائے۔ مزدور طبقے خصوصاً خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے ایسا سرکاری پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں آسانی سے ان کی رسائی اور داد رسی ہو سکے۔  یاد رہے کہ چھٹی سے، کھوکھلے وعدوں سے اور نعروں سے غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔

بھوک کی چغلی کھانے والے

زردی مائل چہرے والا

سوکھے سوکھے ہونٹوں پر وه

آس کی اک مسکان سجائے

قریه قریه بھٹک رہا ہے

نرم صدا معصوم ادا سے

زخمی دل سے جگ والوں کو

دکھ نگری کے شہزادوں کو

خوش باشوں کو، دل داروں کو

بے بس ماں کا راج دلارا

پھول کی مالا بیچ رہا ہے

پھول کے جیسا پیارا بچه

دل ہی دل میں کھیل رہا ہے

پاک وطن کا چاند ستاره

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سعدیہ سویرا

یکم مئی یوم مزدور.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: یکم مئی یوم مزدور میں کام کرنے کوئی خاص رہا ہے آج بھی کے لیے

پڑھیں:

جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت

فرانسیسی حکام کے مطابق امریکی مالیاتی شخصیت اور جنسی جرائم کے مقدمات میں نامزد جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے فرانسیسی ماڈلنگ اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے پیرس کے اپارٹمنٹ میں مردہ پائے گئے ہیں۔

69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیر کی شب ان کے اپارٹمنٹ سے ملی، جبکہ حکام نے موت کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جیفری ایپسٹین کا خفیہ سوسائیڈ نوٹ منظر عام پر، موت کا وقت ’خود چننے‘ پر اظہار اطمینان

سیاد کی وکیل مینیا عرب-ٹیگرین نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو بتایا کہ ان کے مؤکل کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی ماہ سے جاری ذہنی دباؤ، عوامی بدنامی، طویل انتظار اور شدید اضطراب نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات ڈالے۔

Modeling scout Daniel Siad who introduced women to Jeffrey Epstein found dead in Paris pic.twitter.com/zMobl4buzz

— HatsOff (@HatsOffff) July 22, 2026

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر دل کا دورہ موت کی وجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جا سکے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز میں ڈینیئل سیاد کا نام تقریباً 2 ہزار مرتبہ سامنے آیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایک ای میل میں سیاد نے مبینہ طور پر ایپسٹین کو لکھا تھا کہ وہ بارسلونا میں موجود ہیں اور ان کے پاس آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون موجود ہے جسے وہ بارسلونا یا پیرس میں ماڈلنگ کے شعبے میں متعارف کرانا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جیفری ایپسٹین نے ذاتی معاملات کو دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، بل گیٹس کا انکشاف

اس پر ایپسٹین نے مختصر جواب دیتے ہوئے صرف ’تصویر؟‘ لکھا تھا۔

اپریل 2009 کی ایک مبینہ ای میل میں سیاد نے براتسلاوا میں ماڈلز کی تلاش کے دوران ایک 17 سالہ سلوواک لڑکی کی تصاویر ایپسٹین کو بھیجی تھیں۔

پیرس کی پروسیکیوٹر لور بیکو کے مطابق انسانی اسمگلنگ اور فراڈ سے متعلق فروری میں شروع ہونے والی تحقیقات کے بعد اب تک کم از کم 24 خواتین ایسی سامنے آ چکی ہیں جنہوں نے ڈینیئل سیاد یا دیگر افراد کے خلاف مبینہ جرائم کے حوالے سے خود کو متاثرہ یا گواہ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا سابق  امریکی نائب صدر کملا ہیرس کے شوہر نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں سفر کیا؟

سیاد کی وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ تفتیش کاروں نے ان سے متعلق تحقیقات کیں، لیکن فوری گرفتاری کے لیے کافی شواہد موجود نہیں تھے۔

’یہ بات فراموش نہیں کی جانی چاہیے کہ ڈینیئل سیاد کے خلاف کبھی مقدمہ نہیں چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی عدالتی کارروائی میں باضابطہ طور پر نامزد کیا گیا۔‘

واضح رہے کہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین 2019 میں وفاقی تحویل کے دوران مردہ پائے گئے تھے، جبکہ ان کی موت کو سرکاری طور پر خودکشی قرار دیا گیا تھا، تاہم اس معاملے پر مختلف سوالات اور قیاس آرائیاں آج بھی جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آسٹریلیا انسانی اسمگلنگ بارسلونا پوسٹ مارٹم جنسی جرائم جیفری ایپسٹین خودکشی ڈینیئل سیاد ماڈلنگ اسکاؤٹ

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس