کراچی:

محکمہ جیل میں نئی بھرتیوں کے تحت 6ہزار افسران و اہلکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ہزار اہلکاروں کو اور دوسری مرحلے میں پانچ ہزار اہلکاروں و افسران کو بھرتی کیا جائے گا۔

محکمہ جیل کے مطابق اس وقت سندھ کے جیلوں میں ساڑھے پچیس ہزار سے زائد قیدی موجود ہونے کے باعث بھرتیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، قانون کے مطابق تیرہ ہزار قیدیوں پر چار ہزار نفری مقررکی جاتی ہے۔

 سندھ بھر کے جیلوں میں کمیونیکیشن کیلیے جدید وائرلیس سسٹم، سی سی ٹی وی اور کمانڈ اینڈکنٹرول روم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کی باڈی سرچ کیلیے اسکینر اور ملاقاتیوں کے بیٹھنے کیلیے مکمل سہولیات سے آراستہ اے سی ہال قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ جیلز میں ٹرانسپورٹ کے بحران کو ختم کرنے کیلیے 80 پولیس موبائلز اور چالیس ایمبولینسز خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کیلیے آئی ٹی پروگرام اور جیل انڈسٹری بھی بحال کرنے کیلیے تجاویز زیر غور ہیں۔

 ملیر اور حیدرآباد کے جیلوں سے رش کم کرنے کیلیے لانڈھی ایکسٹینشن جیل قائم کیا گیا ہے اور ٹھٹھہ جیل کا آئندہ ماہ افتتاح ہوگا، ٹھٹھہ اور ملیر ایکسٹینشن جیل ایک، ایک ہزار قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصلہ کیا گیا ہے محکمہ جیل کا فیصلہ کرنے کا

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود