کراچی:

محکمہ جیل میں نئی بھرتیوں کے تحت 6ہزار افسران و اہلکار بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے میں ایک ہزار اہلکاروں کو اور دوسری مرحلے میں پانچ ہزار اہلکاروں و افسران کو بھرتی کیا جائے گا۔

محکمہ جیل کے مطابق اس وقت سندھ کے جیلوں میں ساڑھے پچیس ہزار سے زائد قیدی موجود ہونے کے باعث بھرتیوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، قانون کے مطابق تیرہ ہزار قیدیوں پر چار ہزار نفری مقررکی جاتی ہے۔

 سندھ بھر کے جیلوں میں کمیونیکیشن کیلیے جدید وائرلیس سسٹم، سی سی ٹی وی اور کمانڈ اینڈکنٹرول روم قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کی باڈی سرچ کیلیے اسکینر اور ملاقاتیوں کے بیٹھنے کیلیے مکمل سہولیات سے آراستہ اے سی ہال قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

محکمہ جیلز میں ٹرانسپورٹ کے بحران کو ختم کرنے کیلیے 80 پولیس موبائلز اور چالیس ایمبولینسز خریدنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، قیدیوں کیلیے آئی ٹی پروگرام اور جیل انڈسٹری بھی بحال کرنے کیلیے تجاویز زیر غور ہیں۔

 ملیر اور حیدرآباد کے جیلوں سے رش کم کرنے کیلیے لانڈھی ایکسٹینشن جیل قائم کیا گیا ہے اور ٹھٹھہ جیل کا آئندہ ماہ افتتاح ہوگا، ٹھٹھہ اور ملیر ایکسٹینشن جیل ایک، ایک ہزار قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصلہ کیا گیا ہے محکمہ جیل کا فیصلہ کرنے کا

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • پولیس بہترین کارکردگی کے ذریعے اپنے تاثرکو بہتر بناسکتی ہے: وزیراعلیٰ سندھ
  • متنازع اے این ایف بھرتی اشتہار کی معطلی کی درخواست پر عدالت کا تحریری حکم نامہ جاری
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم