Express News:
2026-06-03@07:22:23 GMT

گھڑ سوار اور عقوبت خانہ!

اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT

ملک میں جو غیر یقینی صورت حال برپا ہے۔ اس کے حتمی نتائج کیا ہونگے، اس پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ سنجیدگی اور وطن دوستی کا منصب یہ ہے کہ معاملات کو دلیل کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ کوشش کی جائے کہ حقیقت کے قریب تر رہا جائے۔ پہلے تو یہ عرض ہے کہ ہیجان اور جذباتیت مکمل طور پر لا حاصل ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا انسان بغیر ذاتی جذبات‘ منفی یا مثبت‘ زندہ رہ سکتا ہے۔ جواب آپ کی عقل سلیم کے حوالے کرتا ہوں۔

سیاست کی دھند ملک کے ہر محلہ ‘گلی اور گھر کو لپیٹ میں لے چکی ہے۔ کچھ نظر آ رہا ہے مگر بہت کچھ ‘ آنکھوں سے اوجھل ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اب ہمارے خطہ کا ہر انسان کوئی نہ کوئی پختہ رائے رکھتا ہے۔ یہ بہت بڑا فکری انقلاب ہے۔ جو سیاسی پیچیدگیاں ‘ اس وقت دیو کی طرح‘ ہمیں چاٹ رہی ہیں ان کے متعلق ہر ذی شعور سوچتا ضرور ہے۔ یہ شعور کی وہ سطح ہے جو برصغیر کے بٹوارے کے وقت قطعاً موجود نہیں تھی۔

کھیل اب بھرپور طرز پر ‘ سامنے آ چکا ہے۔ گہرائی سے دیکھیں تو سیاسی میدان میں بڑے دو فریق ہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ اور دوسرا سیاستدان ۔ پیہم زوال سے نکلنا تو دور کی بات‘ اسے روکنا تک محال نظر آتا ہے۔ ایک المیہ اور بھی ہے ۔ فیصلہ ساز قوتیں اردو اخبارات پر زیادہ توجہ نہیں دیتیں، انگریزی کالم بہرحال کچھ نہ کچھ پرتاثیر ہوتے ہیں۔

اردو کے بہترین قلمکار بھی اس قبیلے میں شامل نہیں ہوتے ۔ جو گھڑ سواروں کے گرگ جہاں دیدہ نظر میں رکھتے ہیں۔ یہ دشواری‘ سب کو معلوم ہے۔ پر اس کا مداوا کوئی نہیں ہے۔ منطقی انجام یہ ہے اردو میں لکھے جانے والے بہترین حل بھی محض‘ کاغذ کے ٹکڑے پر رہتا ہے۔ مقتدر طبقے کی میز اور ان کے شعوری فیصلہ سازی کا حصہ نہیں بن پاتا۔ اس نکتے پربحث کسی اور وقت پراٹھا کر رکھتے ہیں۔

سابقہ وزیراعظم‘اپنے زمانے کے گھڑ سواروں کی بھرپور مدد سے ہی تخت نشین ہوئے تھے۔ ملک میں ‘ دربار میں ایستادہ ہونے کا کوئی اور طریقہ ہے ہی نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی سیاست کی جڑ ہے، پر اس کا حل اب کوئی نہیں ہے۔ اس میں بھی کوئی کلام نہیں‘ کہ کسی بھی وزیراعظم کو مضبوط نہیں ہونے دیا جاتا۔ جیسے ہی وہ حلف اٹھاتا ہے، اسی دم افواہوں ‘ بدگمانیوں اور سازشوں کا ایسا قہربرپا کیا جاتا ہے کہ کوئی بھی سیاسی قوت آندھی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

کیا یہ سچ بات نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر‘آج تک ایک بھی وزیراعظم اپنی مدت ملازمت پوری نہ کر سکا۔ گھڑسوار سمجھتے ہیں کہ وہ ملک کو منتخب شدہ بندوں سے بہتر چلا سکتے ہیں۔ اس سوچ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ طالب علم، کیڈٹ کالج حسن ابدال سے فارغ التحصیل ہے۔ ان گنت دوست‘ گھڑسواروں کے سرخیل رہے ہیں۔ ان کی ذاتی سوچ بھی ذہن نشین ہے۔ ذمے داری سے عرض کروں گا کہ وہ ہر وزیراعظم کو سپورٹ کرتے ہیں۔

اس کی مدد کرنے میں مصروف کار ہوتے ہیں۔ پیچیدہ ترین معاملات میں اداروں کی بے لاگ رائے دینے سے گھبراتے نہیں ہیں۔ مگر ہمارے اکثر سیاسی لوگ‘ ایسے ایسے کارنامے انجام دینے شروع کر دیتے ہیں جس سے بدگمانی برہنہ ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔ پھر ایک سرد جنگ کا آغاز ہوتا ہے۔ جس کے انجام کے بارے میں بات کرنا قدرے مشکل بن جاتا ہے۔ خفیہ فرمان جاری ہوتا ہے کہ ہوشیار باش ۔ پھر منظر نامہ بدل جاتا ہے۔ دو تین دہائیاں قبل‘ ایک دور پار کے عزیز جو خفیہ ادارے کے سربراہ تھے‘ ملنے گیا۔ گپ شپ کافی طویل ہو گئی۔

اس وقت موبائل فون نہیں تھے۔ پوچھا‘ کہ پوری دنیا میں‘ کوئی بھی اہم واقعہ ہو تو آپ تک معلومات پہنچنے میں کتنا وقت لگتا ہے۔ جواب کافی دلچسپ تھا۔ صرف اور صرف سات منٹ۔ یاد رہے کہ یہ تیس برس پہلے کی بات ہے۔ جب ابلاغ کے افق پر ‘ سوشل میڈیا اور سیل فون کا شائبہ تک نہیں تھا۔ اب کیا صورت حال ہو گی، معلوم نہیں ۔ پھر یہ بھی ذہن میں رہنا چاہیے کہ اداروں میں اصل وفاداری ‘ اپنے لشکر کے سربراہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ ایک اور بات‘ بتانا ضروری ہے کہ مقتدر قوتوں کے تمام اہم فیصلے ‘ بھرپور مشاورت سے ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی رائے سنی جاتی ہے، اس کا اثر بھی ہوتا ہے۔ مگر ایک دفعہ‘ سردار جو فیصلہ کر دے ، وہ حتمی بن جاتا ہے۔

گزشتہ پانچ ‘ چھ برس کے سیاسی معاملات بہت ہی نازک ہیں۔ اڈیالہ میں مقیم قیدی کو حسب دستور شاہی کرسی عنایت کی گئی۔ مقصد‘ حکمران خاندان کو آئینہ دکھانا تھا۔ وہی ہوا۔ نہ کوئی جلسہ‘ نہ چاہنے والوں کا کوئی ہجوم۔پھر مشکل سے لندن یاترہ ملی۔ کرکٹ کی دنیا کا بادشاہ‘ آنکھ کا تارہ بن گیا۔ مگر اس شخص میں مردم شناسی کا عنصر موجود نہیں تھا۔

سوچ میں کھلاڑیوں والی بے اعتدالی پیہم موجود تھی۔ نقصان یہ ہوا‘ کہ گھڑ سواروں کے سابقہ سرخ پوش نے معاملات کے بگاڑ کو بھانپ لیا ۔ فاش غلطیاں ہونے لگیں۔ ایک ایسی لامحدود جنگ شروع ہو گئی‘ جس نے پورے ملک کو ہر طور پر دلدل بنا کر رکھ ڈالا۔ معاشی عدم استحکام بڑھنے لگا‘ جو آج کوہ ہمالیہ کی چوٹی پر ہے۔ لندن کے مقیم نے اس کشمکش سے بہترین فائدہ اٹھایا اور اپنی دولت اور خاندان کو محفوظ کر لیا۔ تخت بھی واپس مل گیا ۔ نقصان یہ ہوا کہ سیاسی ساکھ مکمل طور پر دفن ہو گئی۔ اور اس پر فاتحہ پڑھنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ بلکہ آج بھی سیاسی لاش ‘ بے کفن درگور ہے۔

کرکٹر کی بے اعتدالیاں اسے اڈیالہ تک لے آئیں۔ زندان کے دروازے کھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ سابقہ وزیراعظم کے چند سنجیدہ رفقاء نے مشکل صورت حال میں بہت صائب کوشش کی کہ جیل کا کواڑ کھل جائے۔ معاملہ سلجھ جائے مگر ایسا نہ ہو پایا۔ حد درجہ ذمے داری سے عرض کر رہا ہوں کہ چار مرتبہ قیدی کو امن کا عندیہ دیا گیا۔ جو سیاسی قائدین ‘ درمیان میں رابطہ کار تھے، انھوںنے کرکٹر کو آمادہ بھی کر لیا۔ گرد کم ہونے کے امکانات واضح ہونے لگے۔ مگر سابقہ وزیراعظم کے اہل خانہ‘ جو کسی سیاسی سوچ سے مبرا ہیں، انھوں نے کرکٹر کا ذہن بدل ڈالا۔ بلکہ انھوںنے فاش غلطی یہ کی کہ جو معتبر سیاست دان‘ معاملہ کوسمیٹ رہے تھے، انھیں غدار بنا کر پیش کرنا شروع کر دیا۔ مغرب کی پرامن فضاؤں میں مقیم کاریگر وی لاگرز نے ‘ غیر سیاسی بیانیے کو معتبرکر دیا۔ ان کا مقصد پہلے بھی پیسہ کمانا تھا اور آج بھی محض دولت کا حصول ہے۔

اس تمام واقعہ میں اصل نقصان‘ سابقہ وزیراعظم کو ہوا۔ کسی کی نیت پر شک نہیں ہے۔ خان کے لیے ‘ ان کے غیر سیاسی رفقا نے اتنے کانٹے بو دیے ہیں کہ انھیں ہاتھوں کے بجائے‘ آنکھوں سے چننا پڑے گا۔ تقریباً تین چار ہفتے سے‘ بات چیت کا معاملہ مسلسل شروع ہے۔ مگر اب فریقین کے درمیان‘ بداعتمادی کی فضا‘ اتنی کثیف ہے کہ سانس بند ہونے لگا ہے۔ خان کے سنجیدہ دوست انھیں صورتحال سے آگاہ کر رہے تھے۔ مگر قومی بیانیہ کی سیڑھی پر ‘ اس شخص کو اتنا اوپر چڑھا دیاگیا ہے کہ نیچے دیکھنا محال ہے۔

حل کیا ہے۔ سوچنا اشد ضروری ہے۔ خفیہ عقاب اہل اقتدار کی معاشی کرپشن کوپردے کے پیچھے سے ‘ نانظرین کے سامنے پیش کرنے لگے ہیں۔ مقتدر حلقوں کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ اڈیالہ کے اسیر پر دوبارہ اعتماد کیا بھی جا سکتا ہے کہ نہیں؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کوئی نہ نہیں ہے جاتا ہے

پڑھیں:

امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ

اسلام ٹائمز: یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جسکے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جسکی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ تحریر: مجتبیٰ شجاعی

بیسویں صدی کی تاریخ میں ایسی عظیم اور غیر معمولی شخصیات نے جنم لیا، جنہوں نے اپنے افکار، کردار اور جدوجہد کے ذریعے دنیا کی سیاسی، سماجی اور فکری سمتوں کا رُخ موڑ دیا اور زمانے کی تقدیر بدل دی۔ حضرت امام خمینیؒ انہی نابغۂ روزگار اور درخشاں شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے نہ صرف ایران کی سیاسی تاریخ کو ایک نیا رخ عطا کیا، بلکہ پورے عالم اسلام کی فکری، ثقافتی اور سیاسی زندگی پر گہرے اور دیرپا اثرات مرتب کیے۔ ان کی قیادت میں برپا ہونے والا اسلامی انقلاب محض ایک سیاسی تبدیلی نہ تھا بلکہ ایک ایسی فکری اور تہذیبی تحریک تھی، جس نے عالم اسلام میں دین، سیاست، آزادی، بیداری اور اجتماعی شعور کے بارے میں نئی بحثوں کو جنم دیا۔

بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینیؒ نے جب اپنی تحریک کا آغاز کیا، اس وقت عالم اسلام کا بیشتر حصہ سیاسی استبداد، بیرونی طاقتوں کے اثر و نفوذ، معاشی پسماندگی اور تہذیبی بحران کا شکار تھا۔ نوآبادیاتی دور کے اثرات ابھی تک مسلم معاشروں پر نمایاں تھے اور بہت سی اقوام اپنی تاریخی شناخت اور فکری خود اعتمادی سے محروم دکھائی دیتی تھیں۔ ایسے ماحول میں اسلامی انقلاب کی کامیابی نے مسلم دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات اور انفرادی زندگی تک محدود مذہب نہیں، بلکہ ایک زندہ اور متحرک نظام حیات ہے، جو معاشرے کی تنظیم، ریاست کی تشکیل اور اجتماعی مسائل کے حل کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

انقلاب اسلامی کی کامیابی کا سب سے بڑا اثر یہ تھا کہ اس نے مسلمانوں میں خود اعتمادی اور خود شناسی کے ایک نئے احساس کو جنم دیا۔ ایک طویل عرصے تک یہ تصور عام رہا تھا کہ ترقی اور جدیدیت کا راستہ صرف مغربی نمونوں کی تقلید سے ہو کر گزرتا ہے، لیکن امام خمینیؒ نے اس نظریئے کو عملاً چیلنج کیا۔ انہوں نے امت مسلمہ کو اپنی تہذیبی میراث، دینی اقدار اور داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی دعوت دی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مسلمان اگر اپنی فکری بنیادوں سے وابستہ رہیں تو وہ نہ صرف اپنی آزادی اور وقار کا تحفظ کرسکتے ہیں بلکہ ترقی اور استحکام کی نئی منازل بھی طے کرسکتے ہیں۔

اسی فکری بیداری کے ساتھ امام خمینیؒ نے وحدت اسلامی کے تصور کو بھی غیر معمولی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عالم اسلام کو درپیش اکثر مسائل کی جڑ باہمی انتشار اور فرقہ وارانہ تقسیم تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ فقہی اور مسلکی اختلافات کو دشمنی کا سبب بنانے کے بجائے مسلمانوں کو اپنے مشترکہ عقائد، مشترکہ تاریخ اور مشترکہ مقاصد پر توجہ مرکوز کرنی چاہیئے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے اسلامی وحدت کو اپنی سیاسی اور فکری جدوجہد کا بنیادی ستون قرار دیا اور امت مسلمہ کو ایک وسیع تر اسلامی اخوت کے تصور سے روشناس کرایا۔

وحدت اسلامی کے اس تصور کے ساتھ ساتھ امام خمینیؒ نے مظلوم اقوام کی حمایت کو بھی اپنی فکر کا اہم حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ظلم خواہ کسی بھی شکل میں ہو اور مظلوم کسی بھی خطے، مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو، اس کی حمایت اور مدد ایک انسانی اور اسلامی فریضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطین کا مسئلہ ان کی فکر میں مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کو صرف ایک قومی مسئلہ نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ "یومِ القدس" کا اعلان دراصل اسی سوچ کا مظہر تھا، جس کے ذریعے انہوں نے مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی۔

امام راحل حضرت امام خمینیؒ کی قیادت اور انقلاب اسلامی کے تجربے نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو بھی متاثر کیا۔ مختلف ممالک میں سرگرم دینی اور سیاسی حلقوں نے انقلاب اسلامی کو ایک ایسی مثال کے طور پر دیکھا، جس نے عوامی طاقت، مذہبی قیادت اور سیاسی عزم کے امتزاج سے ایک مضبوط نظام کو شکست دی۔ اگرچہ ہر ملک کے حالات اور تقاضے مختلف تھے، تاہم انقلاب اسلامی نے یہ احساس ضرور پیدا کیا کہ عوامی شعور اور نظریاتی استقامت کے ذریعے بڑی سیاسی تبدیلیاں ممکن ہیں۔

فکری سطح پر حضرت امام خمینیؒ کا ایک اہم کارنامہ دین اور سیاست کے تعلق کو ازسرنو موضوعِ بحث بنانا تھا۔ جدید دور میں یہ تصور بڑی حد تک رائج ہوچکا تھا کہ مذہب کو صرف انفرادی اور روحانی معاملات تک محدود رہنا چاہیئے، لیکن امام خمینیؒ نے اسلام کی جامعیت پر زور دیتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کیا کہ دین انسانی زندگی کے تمام شعبوں کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے اس نظریئے نے مسلم دنیا میں حکومت اسلامی، عوامی شرکت، دینی قیادت اور ریاست کے اسلامی تشخص کے بارے میں وسیع علمی مباحث کو جنم دیا۔

سیاسی میدان میں امام خمینیؒ کی فکر کا ایک نمایاں پہلو استعمار اور عالمی بالادستی کے خلاف مزاحمت تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ سیاسی آزادی اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے، جب اس کے ساتھ فکری، ثقافتی اور معاشی آزادی بھی موجود ہو۔ ان کے نزدیک کسی بھی قوم کی عزت اور خود مختاری کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ اپنی داخلی صلاحیتوں پر اعتماد کرے اور بیرونی طاقتوں کے تسلط سے آزاد رہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا استقلال اور خود انحصاری کا پیغام دنیا کے مختلف مسلم معاشروں میں وسیع پذیرائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔

ثقافتی اعتبار سے بھی امام خمینیؒ نے مسلم معاشروں میں اسلامی شناخت کے احیاء میں نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بارہا اس بات کی نشاندہی کی کہ تہذیبی خود فراموشی اور فکری مرعوبیت کسی بھی قوم کو اس کی اصل طاقت سے محروم کر دیتی ہے۔ اس لیے وہ اسلامی اقدار، دینی تعلیمات اور تہذیبی ورثے کی حفاظت کو ترقی اور بیداری کے لیے ناگزیر قرار دیتے تھے۔ ان کے یہ افکار خصوصاً نوجوان نسل میں ایک نئے فکری رجحان کا باعث بنے اور انہیں اپنی تہذیبی شناخت پر فخر کرنے کا حوصلہ ملا۔

بانی انقلاب کی شخصیت صرف ایک سیاسی رہبر تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ ایک ممتاز فقیہ، عارف، فلسفی اور مفکر بھی تھے۔ ان کی علمی اور فکری کاوشوں نے انہیں عالم اسلام کے دانشور طبقے میں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ ان کی فقہی، عرفانی اور سیاسی تصانیف مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوئیں اور دنیا بھر کے علمی مراکز میں ان پر تحقیق کا سلسلہ جاری رہا۔ اس طرح ان کے افکار محض سیاسی حلقوں تک محدود نہیں رہے، بلکہ علمی اور فکری دنیا میں بھی وسیع اثرات کے حامل ثابت ہوئے۔

4 جون 1989ء میں حضرت امام خمینیؒ کی رحلت نے پورے عالم اسلام کو سوگوار کر دیا۔ ان کے جنازے میں لاکھوں انسانوں کی شرکت اس حقیقت کا واضح ثبوت تھی کہ امام خمینیؒ کسی مخصوص طبقہ، کسی مخصوص مسلک یا صرف ایک ملک کے رہنما نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی اسلامی شخصیت کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ آج ان کی رحلت کے کئی عشروں بعد بھی ان کے افکار، نظریات اور سیاسی تصورات عالم اسلام کی فکری اور سیاسی زندگی میں زندہ ہیں۔ استقلال، وحدت اسلامی، دفاع مظلوم، عوامی شرکت اور اسلامی تشخص جیسے موضوعات اب بھی مسلم دنیا کے اہم مباحث میں شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاصر عالم اسلام کی سیاسی و فکری تاریخ کا مطالعہ امام خمینیؒ کے کردار اور اثرات کے جائزے کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔

مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ امام خمینیؒ نے عالم اسلام میں ایک ایسی فکری اور سیاسی بیداری کو جنم دیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، اپنی قوت اور اپنے مستقبل پر اعتماد کرنا سکھایا، وحدت اور بیداری کا پیغام دیا اور ظلم و استبداد کے مقابلے میں حق و عدالت کی آواز بلند کرنے کا حوصلہ عطا کیا۔ یہی وہ میراث ہے، جس نے انہیں بیسویں صدی کی مؤثر ترین اسلامی شخصیات کی صف اول میں لا کھڑا کیا اور جس کی بازگشت آج بھی عالم اسلام کے مختلف گوشوں میں سنائی دیتی ہے۔ (مضمون نگار صحافی اور ریسرچ اسکالر ہیں)

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ