التجا کرتے ہیں فیصلہ ساز ہمارے ساتھ بیٹھیں، ہم ملک کے خیر خواہ ہیں: جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
التجا کرتے ہیں فیصلہ ساز ہمارے ساتھ بیٹھیں، ہم ملک کے خیر خواہ ہیں: جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی WhatsAppFacebookTwitter 0 1 August, 2025 سب نیوز
پشاور(سب نیوز )پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ فیصلہ سازوں سے التجا ہے پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھیں، ہمارا کوئی تنازع نہیں، ہمارا مستقبل بھی اکٹھا ہے اور حال بھی سانجھا ہے۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں سلمان اکرم راجا کا کہنا تھاکہ عدالتوں سے جس طرح سزائیں آ رہی ہیں یہ لمحہ فکریہ ہے، 10، 10 سال کی سزا کس بنیاد پر دی ہے جوگواہان پیش کیے وہ بہت کمزور اور جھوٹ ہے، ایسی گواہی پر 10، 10 سال سزائیں سنائی گئیں، قوم کے منتخب نمائندوں کو10، 10سال سزائیں دی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم عدالتوں میں ضرور اپیلیں کریں گے، 26 ویں آئینی ترمیم میں عدالتوں کو کمزور کیا گیا، ہم ہر فورم پر انصاف کیلئے جنگ لڑیں گے۔ ان کا کہنا تھاکہ وزیر اعلی سے بات ہوئی ہے، کچھ مخصوص علاقوں میں کالعدم داعش اور کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجوموجودہیں، ہمیں بتایا جارہاہیکہ جنگجو لوگوں کے گھروں میں پناہ لیے ہوئے اور وہ لوگوں کو ڈھال بنا رہیہیں، ہم عام لوگوں کو جنگجوں کی ڈھال نہیں بننے دیں گے، عوام کو محفوظ رکھیں گے، وزیراعلی سے بات کروں گاکہ معاملے کوسلجھایا جایا جائے، علاقے کے لوگوں کو اعتماد میں لیا جائے۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھاکہ کچھ دنوں کیلئے لوگ ایک طرف ہونا چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہونا چاہیے تاکہ جنگجوں سے نمٹا جاسکے، لوگوں کو زبردستی نقل مکانی پر مجبور نہ کیا جائے۔ جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ التجا کرتے ہیں کہ فیصلہ ساز ہمارے ساتھ بیٹھیں، ہم ملک کے خیر خواہ ہیں، ملک اورمعیشت کی فلاح کا راستہ ہمارے ساتھ چلتاہے، ہمیں علیحدہ کرکے نہیں، ہم پاکستان کے خیر خواہ ہیں، مل کر بیٹھیں، انتشار، لاقانونیت اور ظلم کو ختم کریں، ہمارا کوئی تنازع نہیں ، ہمارا مستقبل بھی اکٹھا ہے اور حال بھی سانجھا ہے۔
سلمان اکرم راجا کا کہنا تھاکہ امن، انصاف اور قانون عزت نفس کیلئے ایک ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کے مطابق یہ تحریک ملک گیر ہوگی، میرٹ کی بنیاد پر ٹکٹ ملنا چاہیے، پہلا حق ورکر کا ہے، بانی پی ٹی آئی سے کئی ہفتوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے، ہم نے ملک میں ہر جگہ عوام سے آئین و قانون کے مطابق اپنی آواز بلندکرنیکی اپیل کی ہے، گھروں میں بیٹھے لوگ ڈرون حملوں سے خوف زدہ ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسکیورٹی خدشات : بلوچستان میں 15دن کیلئے دفعہ 144نافذ سکیورٹی خدشات : بلوچستان میں 15دن کیلئے دفعہ 144نافذ امریکا کیساتھ تجارتی معاہدے کے اثرات، 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 41 سے اوپر بند ہوا پی سی بی بورڈ کا ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں پاکستان کے نام سے شرکت پرپابندی کا فیصلہ عمران خان کے بیٹوں نے ویزا کیلئے درخواست نہیں دی: پاکستانی ہائی کمیشن اپوزیشن کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آل پارٹیز کانفرنس اختتام پذیررہنمائوں کی پریس کانفرنس عمران خان کے دونوں بیٹے کب پاکستان آئیں گے؟ علیمہ خان نے بتا دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا کے خیر خواہ ہیں کا کہنا تھاکہ جنرل سیکرٹری ساتھ بیٹھیں ہمارے ساتھ پی ٹی آئی لوگوں کو
پڑھیں:
گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔
ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔
سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔
حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔
یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی
یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔
اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔
یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں