مزدوروں کا پسینہ قوم کی معیشت کو مضبوط بناتا ہے، جام خان شورو
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اپنے پیغام میں وزیر آبپاشی سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے مزدوروں کے لئے کم از کم اجرت کا نفاذ، کام کے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کا اجرا بھی کیا ہے، محنت کش اپنی محنت اور قابلیت سے ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے مزدوروں کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پوری قوم محنت کشوں کی لازوال قربانیوں اور انتھک محنت کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، مزدور کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مزدوروں کا پسینہ قوم کی معیشت کو مضبوط بناتا ہے اور ان کی محنت سے ملک ترقی کی منازل طے کرتا ہے، محنت کشوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جام خان شورو نے کہا کہ سندھ حکومت نے مزدوروں کے لئے کم از کم اجرت کا نفاذ، کام کے محفوظ ماحول کو یقینی بنانا اور سماجی تحفظ کے پروگراموں کا اجرا بھی کیا ہے، محنت کش اپنی محنت اور قابلیت سے ملک کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔