منشیات برآمدگی کیس میں ساحر حسن کی ضمانت منظور
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزم ساحر حسن کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے ملزم ساحر کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ ملزم ساحر حسن کے خلاف منشیات برآمدگی کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ کراچی جنوبی کی عدالت میں تفتیشی افسر نے مقدمے کا عبوری چالان پیش کیا تھا۔
چالان کے متن میں تحریر کیا گیا تھا کہ ملزم نے منشیات کی فروخت شدہ رقم والد کے منیجر کے اکاؤنٹ میں منگوانے کا اعتراف کرلیا۔
عبوری چالان کے مطابق ملزم کے والد کے منیجر کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع دیا، منیجر کو بینک اسٹیٹمنٹ اور بےگناہی کے شواہد پیش کرنے کی ہدایت کی گئی۔ منیجر نے تاحال اپنی بےگناہی کے شواہد اور بینک اسٹیٹمنٹ جمع نہیں کروائے۔
واضح رہے کہ ساحر حسن اداکار ساجد حسن کے بیٹے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔