کراچی (ویب ڈیسک) پاک بھارتی کشیدگی اور جنگ کے بادل منڈلانے کے باوجود پاکستان کا پرچم بردار کارگو بحری جہاز بھارتی بندرگاہ کلکتہ کی پورٹ پر موجود ہے جہاں کوئلہ اتارنے کا عمل جاری ہے۔

نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے ذرائع نے بتایا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کے باوجود انڈو پاک میری ٹائم پروٹوکول پر عمل جاری ہے، 2008ء میں طے ہونے والے اس پروٹوکول کے تحت دونوں ممالک کے پرچم بردار بحری جہاز ایک دوسرے کی بندرگاہ پر جاسکتے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل ایڈووکیٹ راشد حفیظ کی خدمات اسلام آباد ہائیکورٹ کے سپرد

ذرائع کے مطابق پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کا مال بردار بحری جہاز سبی چینی کارگو کی ترسیل کے لیے بھارتی بندرگاہ پر موجود ہے، پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز کا چارٹر ایگری منٹ حالیہ کشیدگی سے قبل طے کیا گیا اور پاکستانی بلک کارگو جہاز 'سبی' ملائشیا سے 26 ہزار ٹن کوئلہ لے کر کلکتہ کی بندرگاہ ہالدیہ پہنچا ہے۔

ذرائع پی این ایس سی کے مطابق سبی جہاز چارٹر پر ہے جوکہ موجودہ کشیدگی سے قبل ہوا، پی این ایس سی سرکاری احکامات اور پالیسیز کے تحت عمل پیرا ہے۔

پروپیگنڈا کام نہ آیا؛ امریکی وزیر خارجہ نے بھارتی ہم منصب کو ٹکا سا جواب دیدیا

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: بحری جہاز

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بانی پی ٹی آئی کی بشریٰ بی بی سے ہفتہ وار ملاقات کرادی گئی
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد