وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کو دونوں برادر ممالک کی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب مشترکہ دشمن کے خلاف متحد اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ردعمل میں کہا کہ رب العزت کے سائے میں، ان شاء اللہ، پوری امت مسلمہ دشمن کے مقابل ایک صف میں کھڑی ہوگی۔ پاکستان زندہ باد، مسلم امہ پائندہ باد!”
وزیراعظم کا سعودی عرب کا سرکاری دورہ
یہ تاریخی معاہدہ اس وقت منظر عام پر آیا جب وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے۔ ان کے استقبال کے لیے سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے فضائی سلامی پیش کی — جو دونوں ممالک کے تعلقات کی گہرائی کا مظہر تھا۔
دفاعی معاہدے کی تفصیلات
وزیراعظم شہباز شریف اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی دفاعی سلامتی میں ایک اسٹریٹیجک پارٹنر کا کردار ادا کرے گا۔
آرمی چیف کا اہم کردار
اس اہم معاہدے کی تشکیل اور حتمی منظوری میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار کلیدی رہا، جن کی قیادت میں دونوں ممالک کے درمیان عسکری روابط کو باقاعدہ اسٹریٹیجک دفاعی شراکت داری میں تبدیل کیا گیا۔
خطے میں امن اور ترقی کی نئی راہیں
یہ معاہدہ صرف دفاعی تعاون تک محدود نہیں، بلکہ اس سے خطے میں امن، استحکام اور عالمی سلامتی کو فروغ ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی، سفارتی اور عسکری تعاون کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل