Islam Times:
2026-06-02@22:34:12 GMT

کشمیری تشدد نہیں، امن چاہتے ہیں، محبوبہ مفتی

اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT

کشمیری تشدد نہیں، امن چاہتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر کا کہنا ہے کہ زبردستی ملک بدر کی جانیوالی خواتین نے مقبوضہ کشمیر میں شادیاں کیں اور بچوں کی پرورش کی، اب انہیں پاکستانی قرار دیکر زبردستی واپس جانے پر مجبور جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد کشمیریوں کی جبری ملک بدری کے احکامات اور جائیدادوں کی ضبطگی کی جاری مہم پر بھارتی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مودی حکومت نے ہزاروں کشمیریوں کو کو گرفتار کیا ہے۔ 30 یا 40سال سے رہائش پذیر لوگوں کو واپس پاکستان جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی ملک بدر کی جانیوالی خواتین نے مقبوضہ کشمیر میں شادیاں کیں اور بچوں کی پرورش کی، اب انہیں پاکستانی قرار دیکر زبردستی واپس جانے پر مجبور جا رہا ہے؟ انہوں نے خبرار کیا کہ کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی مہم اور گھروں پر قبضے سے کشمیری عوام میں بھارت مخالف جذبات بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اس اقدام سے غریب کشمیریوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ کشمیری تشدد نہیں، امن چاہتے ہیں اور وہ بدل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ پہلا موقع نہیں جب کشمیریوں پر الزام لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کارگل اور ممبئی حملے جیسے واقعات ہو چکے ہیں لیکن ہمیشہ مذاکرات کا عمل دوبار ہ شروع کیاگیا ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارت اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کا جغرافیہ اور تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کا بیک وقت کارروائی کرناانتہائی خطرناک ہوگا۔انہوں نے مودی حکومت پر زوردیاکہ وہ مزید عدم استحکام کو بڑھانے کی بجائے اہم اقدامات کرے۔محبوبہ مفتی نے مودی حکومت سے کہاکہ وہ کشمیریوں کے انسانی پہلو کو پہچانیں، انہیں خطرہ نہ سمجھیں اوریہ تصادم کا نہیں، دل کھولنے کا وقت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں