کشمیری تشدد نہیں، امن چاہتے ہیں، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر کا کہنا ہے کہ زبردستی ملک بدر کی جانیوالی خواتین نے مقبوضہ کشمیر میں شادیاں کیں اور بچوں کی پرورش کی، اب انہیں پاکستانی قرار دیکر زبردستی واپس جانے پر مجبور جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد کشمیریوں کی جبری ملک بدری کے احکامات اور جائیدادوں کی ضبطگی کی جاری مہم پر بھارتی حکومت پر کڑی تنقید کی ہے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ مودی حکومت نے ہزاروں کشمیریوں کو کو گرفتار کیا ہے۔ 30 یا 40سال سے رہائش پذیر لوگوں کو واپس پاکستان جانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زبردستی ملک بدر کی جانیوالی خواتین نے مقبوضہ کشمیر میں شادیاں کیں اور بچوں کی پرورش کی، اب انہیں پاکستانی قرار دیکر زبردستی واپس جانے پر مجبور جا رہا ہے؟ انہوں نے خبرار کیا کہ کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی مہم اور گھروں پر قبضے سے کشمیری عوام میں بھارت مخالف جذبات بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت اس اقدام سے غریب کشمیریوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔ پہلگام واقعے کے حوالے سے محبوبہ مفتی نے واضح کیا کہ کشمیری تشدد نہیں، امن چاہتے ہیں اور وہ بدل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعہ پہلا موقع نہیں جب کشمیریوں پر الزام لگایا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کارگل اور ممبئی حملے جیسے واقعات ہو چکے ہیں لیکن ہمیشہ مذاکرات کا عمل دوبار ہ شروع کیاگیا ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارت اور پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کا جغرافیہ اور تاریخ تبدیل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دونوں ممالک کا بیک وقت کارروائی کرناانتہائی خطرناک ہوگا۔انہوں نے مودی حکومت پر زوردیاکہ وہ مزید عدم استحکام کو بڑھانے کی بجائے اہم اقدامات کرے۔محبوبہ مفتی نے مودی حکومت سے کہاکہ وہ کشمیریوں کے انسانی پہلو کو پہچانیں، انہیں خطرہ نہ سمجھیں اوریہ تصادم کا نہیں، دل کھولنے کا وقت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔