پاکستان میں بجلی کی خریدوفروخت کیلئےنیا نظام لاگو کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلا م آباد (آئی این پی )ملک میں بجلی کی خریدوفروخت کیلئے آزاد مارکیٹ کا نیا نظام لاگو کر دیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کو لائسنس جاری کر دیا ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کا لائسنس آزاد مارکیٹ آپریٹر کو منتقل کر دیا گیا۔نیا نظام صارفین کو مختلف سپلائرز سے براہ راست بجلی خریدنے کے قابل بنائے گا۔ آزاد مارکیٹ آپریٹر بجلی صارفین کو روایتی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کا متبادل پیش کرے گا۔نیا نظام آہستہ آہستہ بجلی کے واحد خریدار کے طور پر حکومت کے کردار کو ختم کرے گا۔ نئے نظام کے تحت بجلی کی موثر اور شفاف مسابقت کے لیے مارکیٹ میسر آئے گی۔
بھارت کی بوکھلاہٹ عروج پر؛ وزیراعظم شہباز شریف کا یوٹیوب چینل بھی بلاک کردیا
آزادمارکیٹ آپریٹر ابتدائی طور پر 3ڈائریکٹرز پر مشتمل ہو گا جس کے بعد تعداد 11 سے زیادہ ہو گی۔ایڈیشنل سیکریٹری پاور ڈویژن سید زکریا علی شاہ آزاد مارکیٹ آپریٹر کیسی ای او تعینات کیے گئے ہیں جب کہ ڈائریکٹرز میں سیکریٹری پاور محمد فخرعالم، جوائنٹ سیکرٹری خزانہ سجاد حیدر شامل ہیں۔وفاقی کابینہ نے نیشنل ٹرانس میشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو 3اداروں میں تقسیم کرنیکی منظوری دی تھی۔ 3 میں سے ایک ادارہ آزاد سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹرکے نام سے قائم کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔