پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس میں 2,500 پوائنٹس کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن کا آغازمثبت رجحان کے ساتھ ہوا، ٹریڈنگ کے ابتدائی سیشن میں ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی۔
کاروباری ہفتے کے آخری روز کاروبار کے آغاز پر سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی دیکھی جا رہی ہے، 100 انڈیکس میں 2,500 سے زائد پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 113,800 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کاروباری دن کے اختتام پر 3545 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ سٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس ایک لاکھ 11 ہزار 326 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
مارکیٹ میں یہ تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد، معاشی اشاریوں میں بہتری اور ممکنہ حکومتی اصلاحات کی توقعات کے باعث دیکھنے میں آئی۔ سرمایہ کاری کے بڑھتے رجحان نے ٹریڈنگ حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا۔
ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں استحکام، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور مہنگائی کی سطح میں کمی کی امید بھی اس مثبت رجحان کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
کاروباری برادری نے مارکیٹ کی حالیہ صورتحال کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایکسچینج میں
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔