بھارت کی کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیں گے آرمی چیف
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے ، کوئی کسی بھی قسم کی غلط فہمی میں نہ رہے، بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا فوری اور بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان علاقائی امن کا عزم کیے ہوئے ہے
پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے منگلا اسٹرائیک کور کی جنگی مشقوں کا معائنہ اور یمر اسٹرائیک مشق کا جائزہ لیا، ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا بھی دورہ،آرمی چیف کا جوانوں سے خطاب
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے واضح کیا ہے کہ بھارت کی کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دینگے ۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ٹلہ فیلڈ فائرنگ رینجز کا دورہ کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے منگلا اسٹرائیک کور کی جنگی مشقوں کا معائنہ کیا، انہوں نے یمر اسٹرائیک مشق کا جائزہ لیا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے ، کوئی کسی بھی قسم کی غلط فہمی میں نہ رہے ۔آرمی جنرل عاصم منیر کا کہنا تھا کہ بھارت کی کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دیں گے ۔آرمی چیف نے مزید کہا کہ بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا فوری اور بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان علاقائی امن کا عزم کیے ہوئے ہے۔آئی ایس پی آر نے بتایا کہ دورے کے دوران آرمی چیف نے افسران اور دستوں کے بلند حوصلے ، جنگی مہارت اور جذبے کو سراہا۔اعلامیے کے مطابق اعلیٰ فوجی قیادت، فارمیشن کمانڈرز نے مشقوں کا مشاہدہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔