1971 پاکستان کی تاریخ کا ہنگامہ خیز سال تھا۔ حکمران جنرل یحییٰ خان نے انتخابات شفاف کرائے تھے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ نے قطعی اکثریت حاصل کرلی۔ سندھ اور پنجاب سے پیپلزپارٹی، بلوچستان اور سابقہ صوبہ سرحد سے نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے اکثریت حاصل کر لی۔
جنرل یحییٰ خان نے مارچ 1971میں ڈھاکا میں قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا۔ جنرل یحییٰ خان اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو عوامی لیگ کو مکمل اقتدار دینے پر تیار نہیں تھے، اس بناء پر پیپلز پارٹی اور عوامی لیگ میں آئین کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہ ہوا۔ جنرل یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کردیا۔
عوامی لیگ نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی۔ جنرل یحییٰ خان نے لیفٹیننٹ جنرل ٹکا خان کو مشرقی پاکستان کا گورنر اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مقررکیا اور مشرقی پاکستان میںآپریشن شروع ہوا۔ نومبر 1971کے آخری ہفتے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ کا اختتام 16 دسمبر 1971کو ریس کورس گراؤنڈ ڈھاکا میں ہوا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور ملک کے صدر بن گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو جدید ڈپلومیسی کے عالمی شہرت یافتہ ماہرین میں شمار ہوتے تھے، یوں پاکستان اور بھارت کے درمیان بیک ڈور ڈپلومیسی شروع ہوئی۔ اس وقت ذوالفقار علی بھٹو کے معاونین میں عزیز احمد نمایاں شخصیت تھے۔ وہ طویل عرصہ وزارت خارجہ کے سیکریٹری رہے۔ انھیں خارجہ اور دفاعی امورکا وزیر مملکت بنایا گیا۔ بھٹو صاحب کی آخری کابینہ میں عزیز احمد پاکستان کے وزیر خارجہ بھی رہے۔
عزیز احمد کا شمار پاکستان کے بہترین سفارت کاروں میں ہوتا تھا۔ بھارت کے تجربہ کار سیاستدان سورن سنگھ بھارت کے وزیر خارجہ تھے۔ بھارتی وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کے معاونین میں سے ایک Durea Prasad Dhar شامل تھے، ڈی پی دھرکا تعلق کشمیر سے تھا۔ انھوں نے کشمیر ی رہنما شیخ عبداللہ کی قیادت میں کشمیرکو ڈوگرہ راج سے نجات دلانے کی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ڈی پی دھر نے 1947 میں پاکستان اور بھارت کی جنگ میں بھارتی فوج کی خاصی مدد کی تھی۔ ڈی پی دھر کے بارے میں یہ بھی تحریرکیا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان میں بھارت کی فوجی مداخلت اور بنگلہ دیش کے قیام میں بھارت کی خارجہ پالیسی کے بانی شمار کیے جاتے تھے، یوں دونوں ممالک کے سینئر سفارت کاروں اور سیاست دانوں کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان رابطے بحال ہوئے۔
بھارت کی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی نے پاکستان کے صدر ذوالفقار علی بھٹو کو بھارت آنے کی دعوت دی اور مذاکرات کا مقام ہما چل ریاست کے صدر مقام شملہ طے پایا۔ صدر ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ جانے سے پہلے حزب اختلاف کے تمام رہنماؤں کو اعتماد میں لیا۔ حزب اختلاف کے رہنماؤں ولی خان، مفتی محمود، غوث بخش بزنجو وغیرہ نے بھٹو صاحب کے اس مشن کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، یوں صدرذوالفقار علی بھٹو ایک وفد کے ہمراہ شملہ گئے۔
اس وفد میں بھٹو صاحب کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو بھی شامل تھیں، یہ بے نظیر بھٹوکی پہلی دفعہ کسی عوامی تقریب میں شرکت تھی۔ وہ اس وقت برطانیہ میں زیرِ تعلیم تھیں۔ اس وقت کے اخبارات میں شایع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق 28 جون سے 2 جولائی 1972تک شملہ میں مذاکرات ہوئے۔ برطانوی خبررساں ایجنسی بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر وائرل ہونے والی ایک رپورٹ کے مطالعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے مرحلے میں دونوں ممالک کی مذاکراتی ٹیمیں کسی فیصلے پر متفق نہ ہوسکیں اور صحافیوں میں یہ افواہ پھیل گئی کہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔
ایک صحافی نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا تھا کہ تمام لوگوں نے واپسی کے لیے اپنا سامان پیک کر لیا تھا کہ رات گئے، یہ پیغام ملا کہ صحافی راج بھون پہنچ جائیں۔ اس صحافی نے لکھا کہ راج بھون میں ذوالفقارعلی بھٹو اور مسز اندرا گاندھی ایک میز پر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تقریباً ایک گھنٹے کے مذاکرات کے بعد فیصلہ ہوا کہ معاہدہ ہوگا اور ابھی ہوگا، یوں دونوں رہنماؤں نے رات 12 بج کر 40 منٹ پر معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں رہنماؤں کے پاس اس وقت قلم بھی نہیں تھا۔ کسی صحافی نے معاہدے پر دستخط کے لیے قلم فراہم کیا۔
اس معاہدے کے خاص خاص نکات یہ تھے۔ اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں اور مقاصد کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعلقات استوار ہوں گے۔ دونوں ممالک اپنے باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہیں یا کسی دوسرے پرامن طریقے سے جس پر ان کے درمیان باہمی اتفاق ہو۔ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی مسئلے کے حتمی تصفیے تک کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر صورتحال کو تبدیل نہیں کرے گا اور دونوں ممالک، امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے نقصان دہ کارروائیوں میں ملوث تنظیموں کی مدد یا حوصلہ افزائی کو روکیں گے۔
مفاہمت، اچھی ہمسائیگی اور پائیدار امن کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے احترام اور ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے پر امن بقائے باہمی کا عہد کرتے ہیں۔ نیز بنیادی مسائل اور تنازعات کے اسباب جنھوں نے گزشتہ 25 برسوں سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بگاڑ پیدا کیا ہے، ان کو پرامن طریقے سے حل کیا جائے گا۔
دونوں ممالک، ہمیشہ ایک دوسرے کی قومی یکجہتی، علاقائی سالمیت، سیاسی آزادی اور خود مختاری کا احترام کریں گے۔ اقوام متحدہ کے چارٹرکے مطابق، ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت یا آزادی کے خلاف دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے پرہیز کریں گے۔ دونوں حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گی۔ دونوں ممالک ایسی معلومات کی ترسیل کی حوصلہ افزائی کریں گے جس سے ان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ ملے گا۔
’’ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ مواصلات، ڈاک، ٹیلی گرافک، سرحدی چوکیوں سمیت، سمندری، زمینی اور فضائی رابطوں کو بحال کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ دونوں ممالک کے شہریوں کے لیے سفری سہولیات کو فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو دوبارہ شروع کیا جائے گا۔ سائنس اور ثقافت کے شعبوں میں بھی تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے وفود گاہے بگاہے ملاقات کر کے ضروری تفصیلات طے کریں گے۔‘‘ پائیدار امن کے قیام کے عمل کو شروع کرنے کے لیے دونوں حکومتیں متفق ہیں کہ بھارتی اور پاکستانی افواج کو مقبوضہ علاقوں سے واپس بین الاقوامی سرحدوں پر بلا لیا جائے گا۔
جموں اورکشمیر میں 17 دسمبر 1971 کی جنگ بندی کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کا بلا تعصب احترام کیا جائے گا۔ کوئی بھی فریق باہمی اختلافات اور قانونی تشریحات سے قطع نظر یکطرفہ طور پر اسے تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ فریقین، اس لائن کی خلاف ورزی میں دھمکی یا طاقت کے استعمال سے باز رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں سے فوجوں کی واپسی اس معاہدے کے نافذ العمل ہونے کے 30 دنوں کے اندر مکمل ہو جائے گی۔
اس معاہدے کی بنیاد پر 28 اگست 1973کو پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا۔ اس معاہدہ کے تحت پاکستان کے 90 ہزار فوجی بھارت نے رہا کردیے۔ پہلگرام میں ہونے والی دہشت گردی اور 26 بے گناہ افراد کے قتل کے بعد پاکستان اور بھارت میں تعلقات انتہائی پست سطح تک دھکیل دیے گئے ہیں۔ کبھی کبھی دونوں طرف کے میڈیا کے بیانیے سے محسوس ہوتا ہے کہ جنگ قریب ہے۔
پاکستان اور بھارت میں ڈیڑھ ارب کے قریب لوگ آباد ہیں۔ دونوں ممالک میں غربت کی لکیرکے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد شمار نہیں ہوئی۔ دونوں ممالک میں محدود جنگ ہو یا طویل جنگ جیسی صورتحال یہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے خطرناک ہے۔ اس وقت شملہ معاہدہ پر اتفاق کرنے والے جیسے مدبر سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک کی قیادت براہِ راست مذاکرات کرے ۔ دونوں ملکوں میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے لیے حقیقی لائحہ عمل طے ہونا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور بھارت کے درمیان پاکستان اور بھارت ذوالفقار علی بھٹو دونوں ممالک کے مشرقی پاکستان پاکستان کے جنرل یحیی عوامی لیگ ایک دوسرے ہونے والی بھارت کی کریں گے جائے گا کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب