وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے قازقستان کے سفیرکی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
اسلام آباد(خبر نگار )قازقستان کے سفیر یرزہان کستافن نے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان سے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے فروغ، تجارتی تعاون اور دو طرفہ روابط کے مزید استحکام دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور قازقستان کے مابین براہ راست پروازوں کے آغاز، بزنس کمیونٹی کے لئے سہولیات اور دونوں ممالک کے چیمبر آف کامرس کے اشتراک پر بات چیت ہوئی۔ عبدالعلیم خان نے کہا کہ پاکستان اور قازقستان کی پہلی ترجیح باہمی رابطوں کو بڑھانا ہے تاکہ تجارتی حجم میں نمایاں اضافہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ قازقستان کی بزنس کمیونٹی کو پاکستان کیلئے 24 گھنٹے میں دوسال کا ویزا جاری کیا جائے گا جبکہ چیمبر آف کامرس کے ارکان کے لئے پانچ سالہ ملٹی پل ویزہ دینے کی تجویز بھی زیر غورہو سکتا ہے تا کہ کاروباری افراد بلا رکاوٹ دونوں ممالک میں آ جا سکیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔