آئی پی ایل اکھاڑا بن گئی، تھپڑ کے بعد کرکٹر نے ساتھی کو لات مار دی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کو کرکٹ کی جگہ کھلاڑیوں نے ریسنگ کا میدان سمجھ لیا، تھپڑ کے ایک اور کرکٹر نے ساتھی کھلاڑی کو لات دے ماری۔
گزشتہ روز احمد آباد میں کھیلے گئے میچ میں گجرات ٹائٹنز اور سن رائزرز حیدرآباد کی ٹیمیں مدمقابل تھیں، اس میچ میں پہلے ہوم ٹیم کے کپتان شبمن گل نے رن آؤٹ پر امپائرز کیساتھ تلخ کلامی کی بعدازاں حریف ٹیم کے پلئیر ابھیشیک شرما کو میچ کے دوران لات دے ماری۔
اس سے قبل بھارتی کرکٹر کلدیپ یادیو کی اپنے ساتھی کرکٹر رنکو سنگھ کو میچ کے اختتام پر تھپڑ مارا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوب وائرل تھی اور انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
میچ کے 14ویں اوور میں گجرات کی ٹیم نے ابھیشیک کیخلاف ایل بی ڈبلیو اپیل کے سلسلے میں ڈی آر ایس لیا، اس دوران بیٹر فزیوز علاج کروارہے تھے تاہم اس دوران شبمن گل آئے اور انہوں نے لات مار دی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ گجرات ٹائٹنز کے کپتان انہیں وقت ضائع کرنے سے روکنے کیلئے منع کررہے تھے۔
دوسری جانب آئی پی ایل میں مسلسل ہاتھا پائی کے واقعات نے جینٹل مین گیم اور بھارتی کرکٹرز کے رویے پر سوال اٹھادیا ہے جبکہ فینز گِل کے ردعمل پر انہیں آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔