بھارتی اسپنر ورون چکرورتی آئی سی سی مینز ٹی20 انٹرنیشنل بولنگ رینکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے تیسرے بھارتی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

اس سے قبل ان کی بہترین رینکنگ دوسری پوزیشن تھی جو انہوں نے فروری 2025 میں حاصل کی تھی۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے جیکب ڈفی کو پیچھے چھوڑا جو مارچ سے سرفہرست تھے۔

دوسری جانب آئی سی سی کی رینکنگ میں ٹاپ 10 میں کوئی بھی پاکستانی کرکٹر شامل نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ کے ٹی20 مرحلے میں بننے والے اہم ریکارڈ، پاکستانی کھلاڑی کہیں موجود نہیں

آئی سی سی اعلامیے کے مطابق، ورون چکرورتی نے متحدہ عرب امارات میں جاری ایشیا کپ کے ابتدائی 2 میچز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے یہ اعزاز اپنے نام کیا۔

Varun Chakaravarthy becomes new No.

1 in ICC Men’s T20I Bowling Rankings

Read ???? https://t.co/etfpV0XWVk pic.twitter.com/101umu4Pjm

— CricTracker (@Cricketracker) September 17, 2025

34 سالہ چکرورتی نے تیز گیند باز جسپریت بمراہ اور لیگ اسپنر روی بشنوئی کے بعد یہ کارنامہ سرانجام دیا۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف 2 اوورز میں صرف 4 رنز دے کر ایک وکٹ لی جبکہ پاکستان کے خلاف 4 اوورز میں 24 رنز کے عوض ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ اس کارکردگی کی بدولت وہ 3 درجے ترقی پاکر پہلے نمبر پر پہنچے۔

ایشیا کپ میں شریک دیگر کھلاڑیوں نے بھی رینکنگ میں ترقی کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ: یو اے ای نے عمان کو 42 رنز سے شکست دے دی

سری لنکا کے نوان توشارا چھٹے نمبر پر آگئے ہیں جبکہ پاکستان کے صوفیان مقیم چار درجے ترقی کے ساتھ 11ویں، اور ابرار احمد 11 درجے اوپر جاکر اپنے کیریئر کی بہترین 16ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

بھارت کے اکشر پٹیل 12ویں، کلدیپ یادیو 23ویں اور افغانستان کے نور احمد 25ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

تیز گیند بازوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے،  بھارت کے جسپریت بمرا 40ویں اور بنگلہ دیش کے تنظیم حسن 42ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایشیا کپ، پاکستان آج یو اے ای کے خلاف میچ کھیلے گا یا نہیں؟ معاملہ سنگین ہوگیا

انگلینڈ کے جوفرا آرچر 13ویں اور جنوبی افریقہ کے مارکو یانسن 38ویں پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

بیٹنگ رینکنگ میں بھارت کے اوپنر ابھشیک شرما نے اپنی پہلی پوزیشن مزید مستحکم کرلی ہے، متحدہ عرب امارات کے خلاف 16 گیندوں پر 30 رنز اور پاکستان کے خلاف 13 گیندوں پر 31 رنز کی بدولت ان کے ریٹنگ پوائنٹس 884 ہوگئے ہیں۔

انگلینڈ کے اوپنرز فل سالٹ اور جوز بٹلر بھی ایک ایک درجہ ترقی کے بعد بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ سالٹ نے جنوبی افریقہ کے خلاف 60 گیندوں پر ناقابلِ شکست 141 رنز بنائے جو انگلینڈ کی جانب سے سب سے بڑی اور تیز ترین سنچری ہے۔

مزید پڑھیں: میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کے خلاف کارروائی کی جائے، پی سی بی نے آئی سی سی کو ایک اور خط لکھ دیا

بٹلر نے اسی میچ میں 30 گیندوں پر 83 رنز بنائے اور پہلی بار ٹاپ 3 میں شامل ہوئے۔

دیگر بیٹسمینوں میں سری لنکا کے پاتھم نسانکا چھٹے، جنوبی افریقہ کے ڈیوالڈ بریوس 11ویں، افغانستان کے رحمان اللہ گرباز 19ویں، متحدہ عرب امارات کے محمد وسیم 20ویں نمبر پر آچکے ہیں۔

اس طرح جنوبی افریقہ کے ایڈن مارکرم 30ویں، بھارت کے شبمن گل 39ویں اور پاکستان کے صاحبزادہ فرحان 55ویں نمبر پر آگئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی سی ابرار احمد ابھشیک شرما افغانستان انگلینڈ ایشیا کپ بھارت ٹی20 جسپریت بمرا جنوبی افریقہ جوفرا آرچر رینکنگ کرکٹ ورون چکرورتی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ابھشیک شرما افغانستان انگلینڈ ایشیا کپ بھارت ٹی20 جسپریت بمرا جنوبی افریقہ جوفرا ا رچر کرکٹ ورون چکرورتی متحدہ عرب امارات نمبر پر آگئے ہیں جنوبی افریقہ کے پاکستان کے گیندوں پر ایشیا کپ بھارت کے کے خلاف گئے ہیں

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم