اگر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی؛ امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیر برائے امور کشمیر گلگت بلتستان اور مسلم لیگ(ن) خیبرپختونخوا کے صدر امیرمقام نے کہا ہے کہ ا گر بھارت نے جنگ مسلط کی تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی۔
وفاقی وزیر امیر مقام نے شانگلہ میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، مسلم لیگ لائرز فورم سمیت دیگر تنظیموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شانگلہ کے عوام نے پورے ملک کے لیے قربانیاں دے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور تاریخ رقم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شانگلہ کے عوام نے پورے ملک کے لیے قربانیاں دے کر دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور تاریخ رقم کی، اب جب بھی ملکی سالمیت کی بات آئے گی تو پورا خیبر پختونخواہ اور شانگلہ کے عوام حاضر ہوں گے۔
قصور : پسند کی شادی نہ ہونے پراپنےہی گھر کا صفایا کرنے والی لڑکی پکڑی گئی
امیر مقام نے بھارت کی پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کی اور کہا کہ بغیر کسی ثبوت کے بھارت نے الزام تراشی کا سلسلہ شروع کیا ہے جو قابلِ افسوس ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری خواہش امن ہے، بھارت نے اگر جنگ مسلط کی تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ بھارت کو شکست سے دوچار کرے گی۔
حالیہ کشیدگی کے دوران آزاد جموں و کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر گزارے گئے تین سے چار دنوں کا تجربے سے آگاہ کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ کشمیر کے لوگ جذبے سے سرشار ہیں اور پاکستان اور پاک فوج سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، یہ جذبہ ناقابل شکست ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں ان کے جذبے اور پاکستان کے ساتھ محبت کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں،انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے اور بھارت کے درمیان یہی فرق ہے، ہمارے لوگ پاک فوج سے محبت کرتے ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو ہر شہری پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہوگا۔
سانحہ نو مئی کے تمام مقدمات یکجا کرنے کی درخواست 8 مئی کو سماعت کیلئے مقرر
انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم متحد ہے، جیسے ہمارے آبا و اجداد نےکشمیر کی آزادی میں اپنا کردار ادا کیا تھا، ہمارے لیے خوش قسمتی کی بات ہے کہ ہم ملک کی حفاظت کے لیے شہید ہوں یا غازی بنیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: پاک فوج کے شانہ بشانہ انہوں نے پوری قوم بھارت نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل اور پارٹی کی تنظیمی سیاست کی اہم ترین شخصیات میں شمار ہونے والے امیرالعظیم کو جمعرات کے روز لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل امیر العظیم انتقال کر گئے
ان کی نماز جنازہ منصورہ میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پڑھائی، جس میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت، کارکنوں، مختلف سیاسی و مذہبی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
نماز جنازہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کی جماعت اور ملک کے لیے خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک بااصول، مدبر اور مخلص رہنما قرار دیا۔
طلبہ سیاست سے قومی قیادت تک کا سفر3 اکتوبر 1958 کو لاہور کے علاقے اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پیدا ہونے والے امیرالعظیم کا خاندان 1947 میں مشرقی پنجاب سے ہجرت کرکے پاکستان آیا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم لاہور میں حاصل کی، اسلامیہ کالج سول لائنز سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے سنہ 1975 میں زمانۂ طالب علمی کے دوران سیاست اور جماعت اسلامی سے وابستگی اختیار کی جبکہ سنہ 1977 میں باقاعدہ جماعت اسلامی کے رکن بنے۔
مزید پڑھیے: خصوصی دعوت پر حافظ نعیم الرحمان کی وزیراعظم ملائیشیا انور ابراہیم سے ملاقات
ان کا سیاسی سفر جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے شروع ہوا جہاں وہ پہلے لاہور کے ناظم منتخب ہوئے اور بعد میں ناظمِ اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے منصب تک پہنچے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے صدر بھی رہے اور سنہ 1980 کی دہائی میں طلبہ حقوق اور نمائندگی کی مختلف تحریکوں میں سرگرم کردار ادا کیا۔
جیل میں بھی تنظیمی ذمہ داریاں نبھاتے رہےسنہ1983 میں وہ جماعت اسلامی پنجاب کے سیکریٹری جنرل منتخب ہوئے۔ فوجی دور میں سیاسی سرگرمیوں کے باعث انہیں قید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
لاہور-امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان امیرالعظیم رحمۃ اللہ علیہ کے شرکائے اجتماع جنازہ سے خطاب کر رہے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ امیرالعظیم نے تمام زندگی اقامت دین کی جدوجہد کی ، وہ بہترین اخلاق کے مالک اور انسانوں کے ہمدرد تھے، وہ… pic.twitter.com/wjshlf58z7
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) July 23, 2026
جیل کے دوران بھی انہوں نے جماعتی سرگرمیاں جاری رکھیں اور 2 مرتبہ جماعت اسلامی کی جیل شاخ کے امیر منتخب ہوئے۔ اکتوبر 1988 میں رہائی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
جماعت اسلامی میں اہم مناصبامیرالعظیم نے مختلف ادوار میں جماعت اسلامی لاہور کے امیر، مرکزی سیکریٹری اطلاعات و نشریات، لاہور کے سیکریٹری جنرل اور بعد ازاں جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اپریل 2019 میں انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا جہاں وہ اپنی وفات تک اس عہدے پر فائز رہے۔
تنظیمی سیاست کے معماراگرچہ امیرالعظیم نے انتخابی سیاست میں نمایاں کردار ادا کرنے کے بجائے تنظیمی میدان کو ترجیح دی تاہم انہیں جماعت اسلامی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے پارٹی میں ادارہ جاتی نظم، نظریاتی تربیت اور تنظیمی نظم و ضبط کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کیا اور کئی نسلوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی تربیت کی۔
فکری اور صحافتی خدماتتنظیمی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ امیرالعظیم جماعت اسلامی کے فکری اور ابلاغی شعبوں سے بھی وابستہ رہے۔ وہ جماعت کے جریدے چشم نو کے مدیر رہے جبکہ فیوچر وژن کمیونیکیشنز کے چیف ایگزیکٹو کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا اظہار افسوسجماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ایک بااصول، صاحب بصیرت اور مخلص رہنما تھے جنہوں نے طویل علالت کے باوجود جماعت کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔
مزید پڑھیں: طارق رحمان کی امیر جماعت اسلامی سےملاقات، مثبت سیاسی تعلقات کو فروغ دینے پر زور
جماعت اسلامی نے اپنے بیان میں امیرالعظیم کو سادگی، دیانت داری، فکری گہرائی اور کارکنوں سے قریبی تعلق رکھنے والا رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی وفات جماعت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیرالعظیم انتقال امیرالعظیم کی تدفین جماعت اسلامی سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم