بہاولپور، یزمان منڈی میں آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹا جاں بحق، دو افراد زخمی
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
بہاولپور، یزمان منڈی میں آسمانی بجلی گرنے سے باپ بیٹا جاں بحق، دو افراد زخمی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 May, 2025 سب نیوز
بہاولپور:
بہاولپور کے نواحی علاقے یزمان منڈی میں آسمانی بجلی گرنے کے افسوسناک واقعے میں باپ بیٹا جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق، واقعہ اس وقت پیش آیا جب چار افراد کھیتوں میں تھریشر مشین کے ذریعے گندم نکالنے میں مصروف تھے کہ اچانک آسمانی بجلی ان پر آگری۔ جاں بحق افراد کی شناخت 50 سالہ شوکت اور اس کے 16 سالہ بیٹے عمیر شوکت کے طور پر ہوئی ہے۔
زخمیوں میں زبیر احمد اور احمد حسن شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں مکمل کیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ پر بڑے حملے کے لیے اسرائیل نے ریزرو فوجیوں کو طلب کر لیا، اسرائیلی میڈیا اسرائیل میں نیتن یاہو کے خلاف برا مظاہرہ، جنگ بندی اور یرغمالیوں کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم ڈھا رہا، بہن بھائیوں کی حمایت جاری رکھیں گے: رانا ثنا حکومت کا جوابی وار، پاکستان میں بھارتی لیگ آئی پی ایل پر پابندی عائد کر دی وزیراطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر کل سیاسی جماعتوں کے رہنماں کو قومی سلامتی صورتحال پر بریفنگ دیں گے سرحد پر تنائو بہانہ: بہار انتخابات جیتنے کے لیے مودی کا پہلگام ڈرامہ بے نقاب واہگہ بارڈر پر پرچم کشائی، پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجتے رہےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آسمانی بجلی
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔