غزہ، غذائی قلت کے باعث ایک اور بچی چل بسی، فاقہ کشی سے شہید افراد کی تعداد 57 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
یاد رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ میں ہر قسم کی امداد کی فراہمی پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ دو روز قبل غزہ کے لیے امدادی سامان اور رضا کاروں کو لے جانے والے بحری جہاز پر بین الاقوامی بحری راستے میں بھی بمباری کی گئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں غذائی قلت کے باعث ایک اور بچی چل بسی، فاقہ کشی سے شہید ہونے والے افراد کی تعداد 57 ہوگئی۔ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے امداد لے جانے پر پابندی کے باعث 9 ہزار سے زائد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ امدادی سامان کے سینکڑوں ٹرک بارڈر پر غزہ میں داخلے کے منتظر ہیں، تاہم صیہونی حکومت کی جانب سے انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اسرائیل کی غزہ میں امداد کی فراہمی پر پابندی کے حوالے سے امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ غزہ میں امداد کی فراہمی کا نظام بنانے کے لیے امریکا اور اسرائیل رابطے میں ہیں، امریکا اور اسرائیل ایسا نظام چاہتے ہیں، جس میں امداد حماس تک نہ پہنچ پائے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے لیے امریکا اور اسرائیل ایک نئی بین الاقوامی امدادی تنظیم سے بات چیت کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے 2 مارچ سے غزہ میں ہر قسم کی امداد کی فراہمی پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔ دو روز قبل غزہ کے لیے امدادی سامان اور رضا کاروں کو لے جانے والے بحری جہاز پر بین الاقوامی بحری راستے میں بھی بمباری کی گئی تھی۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بین الاقوامی فلاحی تنظیم فریڈم فلوٹیلا کولیژن کا کہنا تھا کہ مالٹا کے بین الاقوامی پانی میں غزہ کے لیے امدادی سامان اور رضا کاروں کو لے جانے والے بحری جہاز پر ڈرون کے ذریعے بمباری کی گئی۔ این جی او کی جانب سے آگ کی ویڈیو شیئر کی گئی، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ حملہ کس نے کیا اور نہ ہی فوری طور پر یہ پتہ چل سکا کہ حملے میں کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں۔؟
فلاحی تنظیم کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ڈرون حملے کے ذریعے خاص طور پر بحری جہاز کے جنٹریٹر کو نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے 30 فلاحی ورکرز والا جہاز ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہوگیا۔ یاد رہے کہ فلاحی تنظیم غزہ میں اسرائیلی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مہم چلا رہی ہے۔ غزہ کے لیے امدادی سامان کے جانے والے اسی طرح کے ایک اور بحری جہاز کو 2010ء میں بھی اسرائیلی فورسز کی جانب سے روکا گیا تھا، اسرائیلی کارروائی کے دوران 9 رضاکار ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح دوسرے بحری جہازوں کو بھی روکا گیا، تاہم ان میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دوسری جانب غزہ پر اسرائیل کے حملے بھی جاری ہیں، نئے حملوں میں مزید 40 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: غزہ کے لیے امدادی سامان امداد کی فراہمی بین الاقوامی کی جانب سے جانے والے پر پابندی بحری جہاز لے جانے کی گئی
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔