پہلگام حملے کے بعد قومی سلامتی پر ان کیمرہ سیشن، ڈی جی آئی ایس پی آر اور وزیر اطلاعات کی سیاسی قائدین کو بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) موجودہ علاقائی کشیدگی، خاص طور پر پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے تناظر میں، حکومت پاکستان نے قومی سلامتی سے متعلق اہم ان کیمرہ سیشن منعقد کیا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سیاسی جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کو بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی بڑی تعداد شریک ہوئی، جہاں موجودہ صورتحال اور اس کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی قائدین کو افواج پاکستان کی تیاریوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن اگر کسی نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش کی تو افواج پاکستان منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔”
ذرائع نے مزید بتایا کہ ان کیمرہ سیشن میں وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سیاسی رہنماؤں کو حکومتی سفارتی اقدامات اور عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف سے بھی تفصیلاً آگاہ کیا۔
یہ سیشن اس وقت منعقد ہوا ہے جب بھارت میں پہلگام حملے کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف جارحانہ بیانات دیے جا رہے ہیں، اور ایسی خبریں سامنے آئی ہیں جن میں اس واقعے کو ایک “فالس فلیگ آپریشن” قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین اس بریفنگ کو اہم قومی اتحاد کی علامت قرار دے رہے ہیں، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو قومی سلامتی کے حساس امور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔