یمن کیجانب سے غاصب اسرائیلی رژیم کے فضائی محاصرے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے غزہ کی پٹی کیخلاف غاصب صیہونی رژیم کیجانب سے جاری زمینی کارروائی میں توسیع پر مبنی اسرائیلی منصوبے کا غاصب و سفاک صیہونی رژیم کیخلاف مکمل ہوائی محاصرے کے اعلان کے ذریعے جواب دیا ہے اسلام ٹائمز۔ یمنی مسلح افواج نے غاصب و سفاک صیہونی رژیم کے خلاف مکمل ہوائی محاصرے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق غاصب اسرائیلی رژیم کی جارحیت میں اضافے اور غزہ کے خلاف جارحانہ زمینی کارروائیوں میں توسیع پر مبنی تل ابیب کے فیصلے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یمنی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحیی السریع نے غاصب و سفاک صیہونی رژیم کے خلاف مکمل ہوائی محاصرے کا اعلان کیا ہے۔ اس بارے جاری ہونے والے اپنے بیان میں بریگیڈیئر جنرل يحیی السریع نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس ہوائی محاصرے کا اسرائیلی ہوائی اڈوں پر بار بار حملوں کے ذریعے نفاذ کیا جائے گا جبکہ اس محاصرے میں اللد (Lod) ہوائی اڈہ کہ جسے اسرائیل میں بن گورین ایئرپورٹ بھی کہا جاتا ہے، سر فہرست ہے۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان نے تمام بین الاقوامی ہوائی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بیان کو اس کے اعلان و اشاعت کے وقت سے مدنظر رکھیں اور اپنے طیاروں و اہلکاروں کی سلامتی و حفاظت کی خاطر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع ہوائی اڈوں کے لئے اپنی تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔ انہوں نے تاکید کی کہ آزاد، خود مختار و عزیز یمن جارحیت کے اس تسلسل کو کبھی قبول نہیں کرے گا جو غاصب اسرائیلی دشمن نے لبنان و شام جیسے عرب ممالک پر اپنے انسانیت سوز حملوں کے ذریعے مسلط کر رکھی ہے۔ اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امت اسلامیہ محاذ آرائی سے خوفزدہ نہیں اور نہ ہی اپنے ہتھیار ڈالے گی!
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یمنی مسلح افواج ہوائی محاصرے صیہونی رژیم محاصرے کا
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔