لاہور (نیوز ڈیسک) عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ عمران خان کی پے رول پر رہائی کا کوئی امکان نہیں اور نہ اسکا فائدہ ہے کیونکہ پی ٹی آئی اپنے بائیکاٹ زون سے باہر نہیں آ رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کو پے رول پر نہیں بلکہ پروڈکشن آرڈر پر اسمبلی لایا جاتا تھا، لیڈر آف اپوزیشن نے ایوان میں کردار ادا کرنا ہوتا ہے، اہم ایشو پر لیڈر آف ہاؤس اور لیڈر آف اپوزیشن مشترکہ طور پر بات کرتے ہیں، لہذا عمران خان کی پے رول پر رہائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے بین الاقوامی و مقامی میڈیا کے ہمراہ لائن آف کنٹرول کا دورہ کیا جہاں انہوں نے مقامی اور عالمی میڈیا کے نمائندگان کے دورہ میں سہولت فراہم کی۔ دورہ کا مقصد بھارت کی جانب سے پھیلائے گئے جھوٹے اور بے بنیاد پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنا تھا۔

بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کرنے کے لئے زمینی حقائق میڈیا کے سامنے پیش کئے گئے۔ میڈیا کے نمائندوں کو ان مخصوص مقامات پر لے جایا گیا جنہیں بھارت کی جانب سے مبینہ دہشت گردی کے ٹھکانے قرار دیا گیا تھا۔ زمینی حقائق، مقامی آبادی کی گواہی اور حالات کا خود مشاہدہ کر کے میڈیا نے ان بھارتی دعوؤں کی حقیقت جاننے کا موقع حاصل کیا۔

اس موقع پر عطاء اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے بارہا پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے، آج ہم نے عالمی اور ملکی میڈیا کے سامنے تمام حقائق رکھ دیئے ہیں، جو مقامات بھارت خیالی دہشت گرد کیمپس قرار دیتا رہا ہے، وہ دراصل عام شہری آبادی کے علاقے ہیں، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کے لئے بھی پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے کسی بھی حصے میں دہشت گردی یا دہشت گردانہ سرگرمیوں کی مذمت کرتا ہے، ہم نے اپنے عمل سے بارہا ثابت کیا ہے کہ ہم امن کے داعی ہیں، اپنی خودمختاری کے دفاع کے لئے ہم ہر حد تک جائیں گے، بھارت کو الزام تراشی سے پہلے اپنے زیر قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا چاہئے، بھارت اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے لائن آف کنٹرول پر پروپیگنڈا کرتا ہے لیکن آج عالمی میڈیا نے خود اپنی آنکھوں سے اصل حقیقت دیکھ لی ہے، پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے واضح کیا ہے کہ وہ علاقائی امن کے لئے پرعزم ہے تاہم کسی بھی بھارتی جارحیت کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

صیہونی فورسز کی غزہ میں بربریت جاری، 40 فلسطینی شہید

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میڈیا کے تارڑ نے کے لئے

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا