ایران نے 1,200 کلومیٹر تک مار کرنے والا نیا بیلسٹک میزائل متعارف کرا دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
ایران نے ایک نیا سالڈ فیول بیلسٹک میزائل ’’قاسم بصیر‘‘ متعارف کرایا ہے جس کی رینج 1,200 کلومیٹر (745 میل) ہے۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا ہے جب مغرب کے ساتھ ایران کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ میزائل ایران کی تازہ ترین دفاعی کامیابی ہے، جو دور مار صلاحیت کا حامل ہے۔ میزائل کی ویڈیو ایرانی وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ کے انٹرویو کے دوران نشر کی گئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ "اگر ہم پر حملہ کیا گیا یا جنگ مسلط کی گئی تو ہم بھرپور جواب دیں گے اور دشمن کے مفادات اور فوجی اڈے نشانہ بنائیں گے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا اپنے ہمسایہ ممالک سے کوئی جھگڑا نہیں، لیکن امریکی فوجی اڈے ہمارے ہدف پر ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں جوہری پروگرام پر مذاکرات تین ہفتوں سے جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔