15 جون سے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اقصی شیخ: سندھ حکومت نےکراچی سمیت صوبہ بھر میں ایک بار پہر 15 جون سے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد کردی.
سندھ حکومت کا ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے انقلابی اقدام, محکمہ ماحولیات نے نوٹیفکیشن جاری کردیا جس کے مطابق سندھ میں 15 جون سے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔
محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی کی ہر قسم کے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی عائد، پابندی کا اطلاق نان ڈیگریڈیبل، اوکسو ڈیگریڈیبل، بلیک اور ری سائیکلڈپلاسٹک بیگز پر بھی ہوگا۔
پورٹل میں خامیاں،سینکڑوں پرائیوٹ سکولوں کو رجسٹریشن جاری نہ ہوسکی
2019 کی جزوی پابندی کے بعد اب مکمل بین، محکمہ ماحولیات سندھ کا انقلابی اعلان، سندھ پروہیبیشن آف نان ڈیگریڈیبل پلاسٹک پروڈکٹس رولز 2014 میں ترمیم کے تحت پابندی عائد کی۔
سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنواز نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ صرف ماحول دوست بیگز کی اجازت ہوگی، زیرو ٹالرنس اپنائیں گے، پلاسٹک بیگز ماحولیاتی تباہی کی بنیاد ہیں۔
صرف اعلان نہیں عملدرآمد ہوگا، خلاف ورزی پر سخت کارروائی ہوگی،سندھ حکومت نے عوام سے تعاون کی اپیل کردی، ماحولیاتی تحفظ قومی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
ایران نے قاسم بصیر نامی بیلسٹک میزائل تیارکر لیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔