Jang News:
2026-07-24@10:25:46 GMT

سندھ: 15 جون سے پر قسم کے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد

اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT

سندھ: 15 جون سے پر قسم کے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد

—فائل فوٹو

محکمہ ماحولیات سندھ نے صوبے میں 15 جون سے پر قسم کے پلاسٹک بیگز پر مکمل پابندی عائد کردی ہے، جس کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی کی ہر قسم کے پلاسٹک شاپنگ بیگز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ 

پابندی کا اطلاق نان ڈیگریڈیبل، اوکسو ڈیگریڈیبل، بلیک اور ری سائیکلڈ پلاسٹک بیگز پر بھی ہوگا۔

سندھ بھر میں پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد

محکمۂ ماحولیات کی سفارش پر سندھ حکومت نے صوبے بھر میں تمام اقسام کے پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عائد کر دی۔

نوٹیفیکشن کے مطابق 2019ء کی جزوی پابندی کے بعد اب مکمل بیں، سندھ پروہیبیشن آف نان ڈیگریڈیبل پلاسٹک پروڈکٹس رولز 2014ء میں ترمیم کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔

 محکمہ ماحولیات سندھ کے مطابق صرف ماحول دوست بیگز کی اجازت ہوگی۔ 

محکمہ ماحولیات کا کہنا ہے کہ پلاسٹک بیگز کے استعمال کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائیں گے جبکہ پلاسٹک بیگز ماحولیاتی تباہی کی بنیاد ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: پلاسٹک بیگز پابندی عائد کے پلاسٹک بیگز پر

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت