پاکستانی حجاج کرام کے لئے جدید اور آرام دہ سفری ٹرانسپورٹ سہولیات مہیا کی گئی ہیں:طلال اعوان
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
مدینہ منورہ (نمائندہ نوائے وقت ) جاوید اقبال بٹ : ڈائریکڑ حج مدینہ منورہ ضیا الرحمن کی ہدایات پر مختلف شعبے تندھی سے کام کر رہے ہیں جس پر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک کوآرڈینڑ طلال اعوان نے نمائندہ نوائے وقت سے گفتگو کرتے بتایا ھے کہ حجاج کرام کو جدید ترین بسوں کی سفری ٹرانسپورٹ مدینہ منورہ سے ائیر پورٹ رھائشی بلڈنگ اور مکہ المکرمہ مہیا کی جارھی ھے۔ حجاج کرام کو جدید آرام دہ ٹرانسپورٹ جن میں بسس اور دوسری گاڑیاں شامل ھیں مہیا کی جارھی ھے۔ مدینہ منورہ ائیر پورٹ سے اب تک 14669 حجاج کو جدید ترین بسوں سے رھائشی بلڈنگ تک لاتے ھیں اس کہ لئے ائیر پورٹ اور رھائش پر مستعد عملہ رھتا ھے جو حجاج کا سامان بسوں میں لوڈنگ سے لیکر حجاج کی رھائشی بلڈنگ میں اتار کر پہنچتا ھے کہ حجاج کو کوئی مہمان خصوصی کی طرح خدمات پیش کی جاتی ھیں جس حجاج کرام مطمن اور خوش ھیں ۔ طلال اعوان نے مزید بتایا کے ضیوف الرحمان کی خدمت کرنا ھمارے لئے باعٹ اعزاز ھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔