کراچی میں ڈکیتوں سے پولیس افسران بھی غیر محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
ڈاکو اسلحے کے زور پر گھر میں داخل ہوئے اور ڈی ایس پی کاشف کے اہل خانہ کو ایک کمرے میں بند کر کے نقدی، چار سے پانچ تولہ سونا اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے علاقے سندھ بلوچ سوسائٹی میں ایک سنگین واردات پیش آئی، جہاں ڈاکوؤں نے ٹریفک ڈی ایس پی کاشف کے گھر کو نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق واردات میں چار سے پانچ مسلح ڈاکو شامل تھے، جنہوں نے اہل خانہ کو یرغمال بنا کر گھر کا صفایا کر دیا، ڈاکو اسلحے کے زور پر گھر میں داخل ہوئے اور ڈی ایس پی کاشف کے اہل خانہ کو ایک کمرے میں بند کر کے نقدی، چار سے پانچ تولہ سونا اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کرائم سین یونٹ کو بھی طلب کر لیا گیا اور شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ واردات باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے، شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق کوئی معلومات ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک