بالی ووڈ میں ساتھی اداکاروں کے ساتھ مذاق اور پرینک کرنے کی وجہ سے شہرت رکھنے والے اجے دیوگن کے ایک مذاق پر ساتھی اداکار کی بیوی نے گولیاں کھاکر اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی تھی۔

کبھی کبھی چھوٹا سا مذاق بھی کسی کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ بن جاتا ہے۔ کچھ پرینک ایسے ہوتے ہیں جسے سچ جان کر لوگ اپنے ہی ہاتھوں اپنی زندگی ختم کرلیتے ہیں۔

اجے دیوگن کی زندگی میں ہونے والے ایک واقعے نے ایسا ہی ہولناک منظر پیدا کردیا تھا جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے اداکار آج بھی کانپ جاتے ہیں۔

اداکار اجے دیوگن نے اُس واقعے کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے ساتھ شوٹنگ کرنے والے ایک ساتھی اداکار کی حال ہی میں شادی ہوئی تھی۔

اجے دیوگن نے مزید بتایا کہ ساتھی اداکار کی نوبیاہتا جب بھی سیٹ پر ملنے آتیں تو میں کہتا کہ آپ کے پتی کا کسی کے ساتھ افیئر چل رہا ہے۔

اداکار اجے دیوگن نے بتایا کہ جس پر اُن خاتون نے کہا کہ مجھے آپ کی مذاق اور پرینک کرنے کی عادت کا پتا ہے۔

اجے دیوگن نے کہا کہ میں مسلسل مذاقاً اکساتا رہا کہ ہماری شوٹنگ رات میں ختم ہوجاتی ہے اور میں 10 بجے اپنے کمرے میں آجاتا ہوں لیکن آپ کے شوہر شوٹنگ کا بہانہ کرکے کسی اور سے ملنے جاتے ہیں۔

اداکار کے بقول میرے بار بار کہنے پر انھیں یقین آگیا اور ایک دن ہمیں اطلاع ملی کہ اُن خاتون نے گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی ہے اور اسپتال میں ہیں۔

اجے دیوگن کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز نے اُن خاتون کی زندگی بچالی جس کے بعد میری بھی جان میں جان آئی تھی۔

 

 

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: ساتھی اداکار کی اجے دیوگن نے

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت