ایف بی آر کا ریونیو ہدف مقرر کرنے کیلئے ڈیٹا آئی ایم ایف سے شیئر کر دیا گیا
ایف بی آر ہدف جی ڈی پی کے 11فیصد کے مساوی14200ارب کی تجویز

آئندہ مالی سال 2025، 26 کے بجٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آن لائن رابطہ ہوا جس کے دوران وزارت خزانہ نے عالمی مالیاتی ادارے کو ٹیکس کا ڈیٹا فراہم کردیا۔ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ ایف بی آر ہدف 14200ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ، ایف بی آر کا ہدف جی ڈی پی کے 11فیصد کے مساوی مقرر کرنے کی تجویز ہے ، ایف بی آر کا ریونیو ہدف مقرر کرنے کیلئے ڈیٹا آئی ایم ایف سے شیئر کر دیا گیاہے ۔ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 10.

6 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا، آئندہ مالی سال ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب بڑھ کر 11 فیصد مقرر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ، رواں ماہ مئی کیلئے 950 ارب روپے سے زائد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے ۔ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال ایف بی آر11 ہزار800 ارب روپے تک ٹیکس جمع کر سکے گا، عدالتوں میں ٹیکس کیسز سے 500 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے ، ٹیکس کیسزمیں ریکوری نہ ہوئی تو 12 ہزار 334 ارب کا ہدف حاصل نہیں ہوگا۔ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کیسز میں ریکوری نہ ہونے کی صورت میں نظرثانی ہدف کا شارٹ فال ہوگا، ٹیکس کیسز میں ناکامی سے نظرثانی ٹارگٹ میں 500 ارب کا شارٹ فال ہوگا، ایف بی آر کا نظرثانی شدہ ہدف سے قبل 12 ہزار 970 ارب روپے تھا۔ذرائع وزارت خزانہ نے کہا کہ اصل ہدف کے مقابلے رواں مالی 1170 ارب کا ریونیو شارٹ فال ہو سکتا ہے ، آئی ایم ایف کا وفد 14 سے 22 مئی تک پاکستان کا دورہ کرے گا، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ٹیکس سمیت بجٹ اہداف کو حتمی شکل دی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم