ہائیکنگ کیلئے گئے دو افراد کے ہاتھ خزانہ لگ گیا!
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
یورپی ملک چیک ریپبلک کے جنگلات میں ہائیکنگ کے لیے جانے والے دو افراد کو ایلومینیئم کے کین میں سونے کے سیکڑوں سکّے ملے ہیں۔
کرکونس پہاڑ سے گزرتے دو افراد کو ایک چھوٹا سال ایلومینیئم کا کین (جو کہ ایک دیوار کی دراڑ میں پوشیدہ تھا) ملا جس کے اندر سونے کے 598 سکّے موجود تھے۔ چند فٹ کے فاصلے پر دونوں کو ایک لوہے کا بکس بھی ملا جس میں زیورات، سیگریٹ کے کیسز اور سونے سے بنی دیگر اشیاء موجود تھیں۔
سیر پر گئے یہ افراد تقریباً سات کلو اضافی قیمتی سامان کے ساتھ واپس لوٹے اور سامان کو تجزیے کے لیے میوزیم آف ایسٹرن بوہیمیا کے ماہرین کے پاس لے کر گئے۔
شعبہ آثارِ قدیمہ کے سربراہ میروسلاف نواک کا کہنا تھا کہ قیمتی اشیاء کو زمین بطور خزانہ دفن کرنا قبل از تاریخ وقتوں سے ایک عام سا کام رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مذہبی امور زیادہ عام تھے بعد ازاں غیر یقینی وقت میں جائیداد کو زمین میں یہ سوچ کر دفنا دیا جاتا تھا کہ بعد میں لوٹ کر اس کو نکال لیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔