غیر قانونی طور پر تیار شدہ سگریٹ و دیگر اشیاء کی خرید وفروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے؛ وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ نئی ترامیم باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے افراد اور کمپنیوں کے حقوق پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے امور پر اجلاس ہوا۔ شہباز شریف نے اجلاس سے گفتگو میں کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ کی مخلتف شقوں میں ترامیم کا مقصد ٹیکس کی وصولی میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نئی ترامیم کے تحت کاروباری شخصیات و کمپنیوں کو ایف بی آر افسران کی طرف سے بلاوجہ ہراساں کرنے کی روک تھام اور ٹیکس ادائیگی کے نظام کو مزید سہل بنایا گیا ہے.
اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی
وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نیٹ بڑھنے اور سرکاری آمدن میں اضافے کیلئے جاری اصلاحات سے عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ کم ہو گا۔ وزیراعظم نے تمام شعبوں میں ٹیکس چوری، انڈر انوائسنگ اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی، کہا کہ غیر قانونی طور پر تیار شدہ سگریٹ و دیگر اشیاء کی خرید وفروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم کو مختلف شعبوں میں ٹیکس چوری کے خلاف لیے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، بتایا گیا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور دیگر اصلاحات پر کام جاری ہے، تمباکو، سیمنٹ، پولٹری، شوگر، مشروبات اور دیگر صنعتوں میں ٹیکس چوری کے خلاف اقدامات لیے جا رہے ہیں، ایف بی آر وڈیو مانیٹرنگ کے ذریعے کئی صنعتوں میں بے ضابطگیوں کی شناخت کرنے میں کامیاب رہا ہے، غیر قانونی تمباکو مصنوعات کو ضبط کرنے کے اختیارات صوبوں کو بھی دیے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پولٹری کی صنعت میں بھی ایف بی آر کا مانیٹرنگ کا نظام قائم کیا جا رہا ہے۔
یہ اپریل ہسٹری کا گرم ترین اپریل کیوں تھا
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب, چیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم
احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔
احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔
احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔