اسلام آباد(طارق محمودسمیر)قومی اسمبلی میں بھارت کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، قرار داد طارق فضل چوہدری نے پیش کی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکرسردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے خطاب کیا اور معمول کا بزنس معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔ایک ایسے موقع پر جب بھارت پہلگام واقعہ کی آڑمیں پاکستان کے خلاف کشیدگی بڑھارہاہے، قومی اسمبلی میں بھارت کے خلاف متفقہ قرارداد کی منظوری ایک سیاسی اقدام ہے، جوملکی سلامتی کے لئے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک واضح ہم آہنگی کی علامت ہے،متفقہ قرارداد کے ذریعیواضح کردیاگیاہے کہ بھارت کی حالیہ جارحانہ پالیسیوں، لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیوں، یا کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں، قرارداد کا متفقہ طور پر منظور ہونا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں قومی مفاد کے معاملے پر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جو سفارتی محاذ پر ایک مضبوط پیغام ہے، علاوہ ازیں ایسی قراردادیں بین الاقوامی برادری کو متوجہ کرنے کے لیے اہم ہوتی ہیں، کیونکہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کی پالیسیوں کے خلاف پاکستانی پارلیمنٹ متحد ہے۔ اس کا مقصد اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں پر دباؤ بڑھانا بھی ہو سکتا ہے۔اسی طرح ایسے اقدامات اکثر داخلی سیاسی دباؤ کو کم کرنے کے لیے بھی کیے جاتے ہیں، خاص طور پر اگر عوامی سطح پر بھارت مخالف جذبات پائے جا رہے ہوں، ایسی قراردادوں کا عملی طور پر کوئی قانونی اثر نہیں ہوتا، مگر یہ خارجہ پالیسی کی سمت، اور حکومتی عزم کو ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔قراردادکی متفقہ منظوری کے ذریعے جوپیغام بھارت کو دیاگیاوہ تو درست بات ہے لیکن ایوان کے اندرحکمران اتحادکے ارکان اور وزراء کی کم حاضری اور غیرسنجیدہ رویہ کسی طورپر بھی قابل ستائش نہیں ہے،جے یو آئی کیسربراہ مولانافضل الرحمان جب تقریرکرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو اس وقت ڈپٹی سپیکرسیدغلام مصطفیٰ شاہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے ،مولانافضل الرحمان نے اپنی تقریرادھوری چھوڑدی اور پارٹی ارکان کے ہمراہ احتجاجاًایوان سے واک آوٹ کرگئے ،مولانافضل الرحمان کاکہناہے کہ ایک طرف بھارت ہمیں دھمکیاںدے رہاہے ،قراردادبھی منظورہوئی ہے لیکن افسوسناک امریہ ہے کہ نہ تو وزیراعظم ،نہ ہی وزیرخارجہ اور نہ ہی وزیردفاع ایوان میںموجودہیں،غیرسنجیدگی کامظاہرہ کیاگیاہے ،ہم ایک جذبے کے تحت آئے تھے کہ آج ایوان میں ڈاٹ کر بات کی جائے گی اور دشمن کو پیغام دیاجائے گا لیکن حکومتی رویے سے مایوسی ہوئی ،ہم اپنی بانسری کس کے سامنے بجائیں،مولانافضل الرحمان کے موقف میں وزن ہے اگروزیراعظم ایرانی وزیرخارجہ اور بلاول بھٹو سمیت اہم ملاقاتوں میں مصروف تھے تو وزیرخارجہ اوروزیردفاع کو تو ایوان میں ہوناچاہئیتھااوروزیرخارجہ کو موجودہ صورتحال پر ایوان کو بریف کرناچاہئے تھا،میری رائے میں کل کے اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف خود ایوان میں آئیں اور قو م کے جذبات کی ترجمانی کریں،  پاکستان نے ابدالی ویپن سسٹم کے بعد آج ایک اور میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فتح میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا، “ایکس انڈس” مشق کے تحت فائر کیے گئے فتح میزائل کی رینج 120 کلومیٹر ہے، میزائل میں جدید نیویگیشن سسٹم اور اعلیٰ درستگی شامل ہے، فتح میزائل کی کامیاب آزمائش پاکستان کے جدید ویپن سسٹمز میں ایک اور اضافہ ہے،اس تجربے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ٹیکنالوجی میں مسلسل بہتری لا رہا ہے،بھارت کے ساتھ کشیدگی کے تناظرمیں یہ میزائل تجربہ بہت اہمیت کاحامل ہے، فتح جیسے کم فاصلے کے میزائل میدان جنگ میں فوری ردعمل کے لیے مؤثر ہیں، خاص طور پر ایسے ہدف کے خلاف جہاں تیز رفتار، درست نشانہ مطلوب ہو۔یہ میزائل نظام دشمن کی فوجی تنصیبات یا پیش قدمی کرنے والی فورسز کو نشانہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، فتح میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی ٹیکنالوجی کی ترقی کی علامت بھی ہے۔ یہ نہ صرف فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے بلکہ ایک اسٹریٹجک پیغام بھی دیتا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: مولانافضل الرحمان فتح میزائل ایوان میں کے خلاف

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی