قومی اسمبلی میں بھارتی اقدامات کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
قومی اسمبلی سے منظور کی گئی قرارداد میں بتایا گیا کہ یہ ایوان بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور آبی جارحیت کی مذمت کر تے ہوئے ممکنہ عسکری اور آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں قرارداد میں بھارت کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لئے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ قومی اسمبلی اجلاس میں پہلگام واقعے کے بعد بھارتی غیر قانونی یکطرفہ اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد ایوان میں پیش کردی گئی۔ قومی اسمبلی نے پہلگام واقعے کے بعد بھارتی غیر قانونی یکطرفہ اقدامات کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی، قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان پاکستان میں دہشت گردی کی تمام شکلوں اور بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارتی اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔ قرارداد میں یہ بھی بتایا گیا کہ یہ ایوان بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور آبی جارحیت کی مذمت کر تے ہوئے ممکنہ عسکری اور آبی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ علاوہ ازیں قرارداد میں بھارت کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لئے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یکطرفہ اقدامات اور آبی جارحیت قومی اسمبلی
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔