مودی کا بھارت مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے قتل عام پرخوش ہے: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
بیرسٹر گوہر —فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ ایک بھارت مودی کا ہے تو ایک سیکولر ہے۔ مودی کا بھارت مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے قتل عام پر خوش ہے۔
انہوں نے آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سندھ طاس معاہدہ کی معطلی پر اظہارِ خیال کیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے ایوان میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 9 سال کے مذاکرات کے بعد ہوا تھا، مودی نے پہلی مرتبہ سندھ طاس معاہدہ معطل کیا۔
فاروق ستار نے کہا کہ مودی مائنڈسیٹ نے ثابت کیا کہ ہمارے اجداد نے پاکستان کے لیے درست قربانیاں دیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کا پانی کسی صورت نہیں روک سکے گا، حکومتِ پاکستان سندھ طاس معاہدے کو عالمی عدالت انصاف میں لے جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ غزہ طرز کی جنگ نہیں ہوگی، پاک بھارت جنگ ہوئی تو بہت آگے تک جائے گی۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق مودی کے الزامات کو ہم مسترد کرتے ہیں، دہشتگردی ہماری طرف بھی ہے، بھارت نے جعفر ایکسپریس حملے کی مذمت تک نہیں کی جبکہ ہم نے پلوامہ سے لے کر پہلگام تک ہر واقعے کی مذمت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔