قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار جاری
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ملک میں قدرتی گیس کے استعمال اور پیداوار سے متعلق اعدادوشمار سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اجلاس میں پیش کر دیے گئے۔
اجلاس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جون 2024 تک پنجاب سے قدرتی گیس کی پیداوار 163 ایم ایم ایف سی ڈی رہی اور استعمال 976 ایم ایم ایف سی ڈی گیس رہی جبکہ استعمال میں سے 668 ایم ایم سی ایف ڈی گیس درآمدی آر ایل این جی سے رہی۔
جون 2024 تک خیبر پختونخوا سے گیس کی پیداوار 346 ایم ایم سی ایف ڈی رہی اور اسی عرصہ میں قدرتی گیس کا استعمال 208 ایم ایم ایف سی ڈی رہا جبکہ 3 ایم ایم ایف سی ڈی گیس کا استعمال آر ایل این جی سے رہا۔
سندھ میں گیس کی پیداوار 1609 ایم ایم سی ایف ڈی رہی اور استعمال 1115 ایم ایم ایف سی ڈی رہی، سندھ میں آر ایل این جی گیس کا استعمال 112 ایم ایم سی ایف ڈی رہا۔
بلوچستان میں گیس پیداوار کا مجموعی حصہ 492 ایم ایم ایف سی ڈی رہا جبکہ استعمال 334 ایم ایم ایف سی ڈی رہا۔ بلوچستان میں آر ایل این جی گیس کا استعمال 3 ایم ایم ایف سی ڈی رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم ایم ایف سی ڈی رہا ایم ایم سی ایف ڈی گیس کا استعمال آر ایل این جی قدرتی گیس ڈی رہی
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔