میٹ گالا فیشن شو میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت پر پابندی کیوں ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
واشنگٹن(نیوز ڈیسک)دنیا کا سب سے بڑا اور مقبول فیشن ایونٹ ’میٹ گالا‘ جس میں دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے معروف فلمی ستارے اور ماڈلز شریک ہوتے ہیں، گزشتہ روز امریکہ میں انعقاد ہوا۔
میٹ گالا، فیشن کی دنیا کا سب سے بڑا اور شاندار ایونٹ، اپنی چمک دمک اور ستاروں کی بھرپور موجودگی کے لیے مشہور ہے۔ اس ایونٹ میں آسکر جیتنے والے اداکار، موسیقار اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی مشہور شخصیات شرکت کرتی ہیں، جس کی نگرانی ووگ میگزین کی ایڈیٹر انچیف اینا ونٹور (Anna Wintour) کرتی ہیں۔ ’ وہ اس سالانہ ایونٹ کے لیے باقاعدہ مہمانوں کی فہرست بھی تیار کرتی ہیں۔ لیکن ایک اہم نام میٹ گالا میں کئی سالوں سے غائب ہے اور وہ ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا جس سے متعلق اہم معلومات سامنے آئی ہے۔
دی انڈیپنڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ 2012 تک میٹ گالا کے باقاعدہ مہمان تھے، لیکن جب وہ پہلی بار امریکہ کے صدر بنے تو اینا ونٹور نے انہیں اس ایونٹ میں مدعو کرنا بند کر دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اینا ونٹور نے کبھی بھی اس فیصلے کی کوئی باضابطہ وجہ نہیں بتائی، لیکن وہ ڈیموکریٹک پارٹی کی طویل عرصے سے حمایت کرنے والی رہی ہیں اور ان کا اوباما خاندان کے ساتھ قریبی تعلق ہے۔ ونٹور کئی بار ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کر چکی ہیں۔
جب 2017 میں اینا ونٹور امریکہ شو دی لیٹ نائٹ میں جیمز کارڈن کے ہمراہ نظر آئیں، تو ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایسا کوئی شخص ہے جسے وہ کبھی میٹ گالا میں واپس نہیں بلانا چاہیں گی؟ جس پر ونٹور نے جواب دیا وہ ہیں ”ٹرمپ۔“
مٹ گالا میں اور کونسی شخصیات پر پابندی ہے؟
دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق، 2016 میں ٹی وی کی مشہور شخصیت ٹم گن نے بتایا کہ انہیں اینا ونٹور کے بارے میں ایک تبصرہ کرنے کے بعد میٹ گالا میں شرکت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔
اس کے علاوہ معروف گلوکار معروف نام زین ملک ہیں، جو 2016 میں اپنی سابقہ گرل فرینڈ جیجی حدید کے ساتھ میٹ گالا میں شریک ہوئے تھے۔ تاہم چند رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ وہ ان پر بھی میٹ گالا میں آنے پر پابندی ہے۔
اداکارائیں ٹینا فے اور لِیلی رائن ہارٹ بھی میٹ گالا میں اینا ونٹور کی پالیسیوں پر تنقید اور متنازعہ بیانات کے باعث پابندی کا شکار ہو چکی ہیں۔
مزیدپڑھیں:’جو کرنا ہے کر دیں‘: ملزم ارمغان کی ڈھٹائی پر جج اور وکیل حیران
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: اینا ونٹور پر پابندی
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔