پہلگام حملے کو لیکر پاکستان کو منہ توڑ جواب دیا جائے، اسد الدین اویسی
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
رکن پارلیمان نے کہا کہ اس حملے نے کشمیر میں سیاحت کو بھی متاثر کیا ہے، اسلئے ہم چاہتے ہیں کہ دہشتگردی کے اس غیر انسانی فعل کو انجام دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمان اسد الدین اویسی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کو بزدلانہ اور سفاکانہ قرار دیتے ہوئے بھارتی حکومت سے حملے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان باتوں کا اظہار اسد الدین اویسی نے سرینگر میں اپنے دورے کے دوران میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ اسد الدین اویسی نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس حملے نے کشمیر میں سیاحت کو بھی متاثر کیا ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے اس غیر انسانی فعل کو انجام دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور خاص کر پاکستان کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اس حملے کا جواب موثر انداز میں دے، آل پارٹی میٹنگ میں بھی ہم نے یہ بات دہرائی ہے۔ انہوں نے کہا اس انسانیت سوز سانحہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے اور اس حملے میں ملوث قصورواروں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیئے۔
مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ کے ایک بزدلانہ اور سفاکانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے دیکھا کہ کس طرح پاکستان کے دہشت گردوں نے 26 لوگوں کو ہلاک کیا، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ کس طرح انہوں نے بچوں اور خواتین کو الگ کیا، مردوں سے ان کے مذہب کے بارے میں پوچھا اور جو کلمہ نہیں پڑھ سکتے تھے انہیں نشانہ بنایا گیا، جو کہ بے حد تکلیف دہ اور دردناک واقعہ ہے۔ اس سے قبل مجلس اتحاد المسلمین کے صدر نے سرحد پار دہشت گردی سے پاکستان کے مسلسل انکار کی سخت مذمت کی اور کہا کہ بات چیت کا وقت گزر چکا ہے اور اب ایک مضبوط ردعمل ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسد الدین اویسی سخت کارروائی کے خلاف سخت انہوں نے اس حملے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر